انوارالعلوم (جلد 10) — Page 404
انوار العلوم جلد ۱۰ ہوتا ہے۔ شهرور پورٹ اور مسلمانوں کے مصالح چاہئے میں سمجھتا ہوں۔ کہ ان اصول کے ماتحت کے ماتحت پہلے ہمیں اس سوال پر اصولی غور کرنا۔ کہ کیا ہندوستان کی موجودہ حالت اس قسم کی ہے کہ مسلمانوں کو کسی خاص حفاظت کی ضرورت ہو۔ اور انہیں ایک علیحدہ اقلیت کی صورت میں رہنے دینا ناگزیز ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں میں سے تو ہر ایک شخص اس امر کو تسلیم کرتا ہے کہ ان کی اس وقت خاص حفاظت کی ضرورت ہے۔ میں پہلے بتا آیا ہوں کہ ان وجوہ میں سے جو کسی اکثریت کو اقلیت پر ظلم کرنے پر مائل کرتے ہوں۔ بڑے بڑے وجوہ چھ ہیں۔ پس ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ آیا وہ وجوہ اس وقت پائے جاتے ہیں یا نہیں۔ مسلمانوں کو خاص حفاظت کی ضرورت اور اس کی وجوہات اول وجہ یہ ہوتی ہے کہ اقلیت اس ملک میں پہلے حاکم رہ چکی ہو۔ اور یا تو عملاً ظلم پہلی وجہ کر چکی ہو۔ یا اکثریت کو یہ دھوکا لگ گیا ہو یا دھوکا دیا گیا ہو کہ اقلیت اپنے زمانہ اقتدار میں اس پر ظلم کرتی رہی ہے۔ ایسی صورت میں عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اکثریت اپنے بر سر اقتدار ہونے پر حقیقی یا خیالی مظالم کا بدلہ اقلیت سے لیتی ہے۔ چنانچہ قدیم تاریخ کی مثالوں میں سے مدھوں کی مثال موجود ہے کہ انہیں ہندوؤں نے بالکل تباہ کر دیا۔ چین کے مسلمانوں کی مثال موجود ہے کہ انہیں مسیحیوں نے تباہ کر دیا۔ زمانہ حاضر میں دوسرے ممالک کی مثالوں میں سے یونان، سرویا، رومانیہ اور بلغاریہ کی مثال موجود ہے کہ ان علاقوں میں ترکوں پر خصوصاً اور مسلمانوں پر عموماً سخت سے سخت ظلم ہوتے رہے ہیں۔ محض اس وہم کی بناء پر کہ تُرک اپنے زمانہ اقتدار میں ان ان کے آباء و اجداد پر ظلم کرتے رہے ہیں پولینڈ میں جرمنوں سے بدسلوکی ہو رہی ہے۔ کیونکہ ایک حصہ پولینڈ کا جرمنی کے ماتحت تھا۔ زیکو سلویکا میں جرمن زمینداروں سے اس وجہ سے سختی ہو رہی ہے۔ رومانیہ میں مگیار قوم سے یوگو سلاویا میں آسٹرینز اور مگیار سے اٹلی میں آسٹرینز سے ظلم ہو رہا ہے۔ ی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں اور ہمیں بتا رہی ہیں کہ حقیقی یا وہمی ظلموں کی بناء پر ایک قوم دوسری قوم کو تباہ کیا کرتی ہے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ یہی ذہنی حالت ہندوؤں کی بھی ہے۔ اول تو انگریزوں نے ہندوستان میں اپنی حکومت کی جڑ ہیں مضبوط کرنے کے لئے مسلمان