انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 391 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 391

انوار العلوم جلد ۱۰ ۳۹۱ شهر و ر پورٹ اور مسلمانوں کے مصالح جرمن ہیں ہر جگہ پر صرف جرمنی زبان ہی سننے میں آتی تھی۔ اور لوگ ایسے گیت گاتے تھے جن کا روم میں گانافوری گرفتاری کا موجب ہوتا۔ اب اس علاقہ کے ہر ایک سکول میں اٹالین زبان لازمی ہے تمام ڈاک خانہ اور ریل کے افسراٹالین ہیں۔ اور اب ہم وہاں بہت سے اطالوی خاندان بسانے کی فکر میں ہیں۔ ایک ہزار خاندان پیشنر فوجیوں کا جنوبی ٹائرال کو اس غرض کے لئے بھیجا جا رہا ہے کہ وہاں کی زمین کی حالت کو اچھا بنائیں۔ اس طرح ہم اس ملک کو اطالوی بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ۲۴ اس اطالوی بنانے کی تفصیل یہ ہے کہ :۔ تمام قانون صرف اطالوی زبان میں شائع کئے جاتے ہیں۔ ۱۵۔ اکتوبر ۱۹۲۵ء کا اعلان اطالوی زبان کو عدالتوں میں لازمی قرار دیتا ہے۔ اور اس طرح قلیل التعداد جماعتوں کے قانونی حق کو سخت صدمہ پہنچاتا ہے۔ یہ اعلان اطالوی زبان کے سوا باقی سب زبانوں کو دیوانی یا فوجداری کارروائیوں میں خواہ زبانی ہو یا تحریری ممنوع قرار دیتا ہے اسیر (ASSESSOR) وہی لوگ بنائے جا سکتے ہیں جو اطالوی زبان جانتے ہوں۔ تمام کاغذات اور شہادتیں جو اور کسی زبان میں ہوں، رد کر دی جاتی ہیں۔ ۲۵ چونکہ صرف اطالوی جاننے والے لوگ اسیسر بنائے جاتے ہیں اس لئے اقلیتوں کے ہر فرد کو یہی امید رکھنی چاہئے کہ سب کی سب جیوری (JURY) اس کے قطعی طور پر مخالف ہو گی ۲۶ کوئی ایک فرد بھی اقلیتوں کا ان قوانین سے کسی نہ کسی وقت متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا لیکن ٹولو مئی (اطالوی وزیر) کے پروگرام میں مذکور بالا امور کے علاوہ اور ذرائع بھی لوگوں کو اطالوی قوم میں شامل کر لینے کے لئے تجویز کئے گئے ہیں۔ ۲۷ ان امور کو گنانے کے بعد دی پروٹیکشن آف مائناریٹیز کی لائق مصنفہ لکھتی ہے کہ :۔ صرف اقلیتوں کے معاہدات نے ہی دوسری حکومتوں کی اقلیتوں کو اس انجام سے محفوظ رکھا ہے۔ یہ مثال اس امر کی کہ بغیر حد بندیوں کے قوم پرستی کیا کچھ کر سکتی ہے۔ ظاہر کرتی ہے کہ اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کے معاہدات کیسے ضروری ہیں