انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 386

انوار العلوم جلد ۱۰ ۳۸۶ شهر و ر پورٹ اور مسلمانوں کے مصالح اس پر حسن ظن رکھتا ہوں ایک منٹ کے لئے خیال نہیں کر سکتا کہ برطانیہ کسی دوسرے کے لئے اپنے قومی نقصان کو برداشت کرلے گا۔ ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ ڈومینین حکومت کا تعلق برطانوی حکومت سے صرف قلبی ہوتا ہے کوئی مادی طاقت اسے برطانوی حکومت سے وابستہ نہیں کرتی۔ اس کی فوجیں اپنی اس کی ممبری طاقت اپنی اس کا نظام اپنا ایک گورنر ہی ہے نا جو برطانیہ سے آتا ہے اور وہ بھی بے اختیار اور جب نو آبادیوں کو یہ حق بھی حاصل ہو کہ جب وہ چاہیں، برطانیہ سے الگ ہو جائیں تو کب ممکن ہو سکتا ہے کہ برطانیہ ایک قلیل التعداد جماعت کی خاطر ایک اتنی بڑی حکومت کو ناراض کر لے گا جو اس کے تاج کا ہیرا کہلاتی ہے۔ برطانیہ کا انصاف اس وقت تک ہے جب تک کہ اس کے قومی فوائد کو نقصان نہیں پہنچتا۔ جس وقت اس کے قومی فوائد کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو تو وہ ایسے معاملہ کو اس کی اندرونی حقیقت کے لحاظ سے نہیں دیکھے گا۔ بلکہ شاہی مصالح کی نگاہ سے دیکھے گا۔ یاد رکھنا چاہئے کہ قلیل التعداد جماعتوں کا ساتھ کوئی نہیں دیا کر تا جب تک اپنا ذاتی فائدہ نہ ہو۔ قلیل التعداد جماعتوں کو اپنے فوائد کی نگرانی خود ہی کرنی پڑتی ہے۔ میں اس امر کے متعلق کہ قلیل التعداد جماعت کو انصاف پانے میں نہایت وقت ہوتی ہے ، اس شخص کی شہادت پیش کرتا ہوں جو اس وقت اس مسئلہ کا سب سے بڑا عالم ہے۔ میری مراد پروفیسر گلبرٹ مرے سے ہے۔ یہ صاحب جنگ عظیم کے بعد صلح کی کانفرنس میں برطانوی سفارت کے ساتھ بطور ماہر فن کے بھیجے گئے تھے۔ اور اس کے بعد لیگ آف نیشنز (LEAGUE OF NATIONINS) کی تنظیم میں بھی انہوں نے کام کیا ہے۔ انہیں قلیل التعداد جماعتوں کے حقوق کا خاص خیال ہے۔ چنانچہ انہوں نے لیگ میں کئی مفید تجاویز ایسی پیش کی ہیں۔ جن میں قلیل التعداد جماعتوں کے حقوق کی حفاظت کو مد نظر رکھا گیا ہے۔ یہ صاحب دی پروٹیکشن آف مائناریٹیز (PROTECTION OF MINORITIES) مصنفہ مس ایل۔ پی۔ میر ایم اے کے دیباچہ میں لکھتے ہیں :- وہ فرض جو کونسل کا مقرر کیا گیا تھا۔ وہ اس عظیم الشان مجلس کی شرمیلی شرافت کو کسی قدر مرعوب کرنے والا ثابت ہوا ہے۔ مظلوم اقلیتوں کی حمایت کرنے کے یہ معنی ہیں کہ انسان اپنی ہر دلعزیزی کھو بیٹھے۔ اور کونسل کے کسی ممبر نے شکایتیں سننے یا بے انصافی کے دور کرنے میں کوئی غیر واجبی چستی نہیں دکھائی ۔ ۲۱