انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 377

انوار العلوم جلد ۱۰ ۳۷۷ شهرو ر پورٹ اور مسلمانوں کے مصالح اسی پر بحث کرنی چاہتا ہوں۔ اور اپنے مضمون کو کئی سوالوں پر تقسیم کرتا ہوں تاکہ اچھی طرح ہر اک شخص کی سمجھ میں آسکے۔ ا۔ کیا تفاصیل کو آزاد حکومت کے حصول تک ملتوی نہیں کیا جا سکتا پیشتر اس کے کہ میں اس امر پر بحث کروں کہ مسلمانوں کے مطالبات کہاں تک ضروری اور جائز ہیں ، میں ایک خطرناک و ہم کو دور کرنا چاہتا ہوں جو مسلمانوں کے دلوں میں پیدا ہے۔ اور جس کی وجہ سے میں ڈرتا ہوں کہ وہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھالیں ، جس کے بعد واپس لوٹنا نا ممکن ہوگا اور پچھتانے اور نادم ہونے سے کچھ نہیں بنے گا۔ اور وہ وہم یہ یہ ہے کہ اب جو کچھ بھی فیصلہ ہونا ہے ہو جائے۔ بعد میں اگر اس میں نقص معلوم ہو گا تو موجودہ فیصلہ کو بدل دیا جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اکثر مسلمانوں کے دل میں یہی احساس ہے اور اس احساس کی وجہ سے ایک غلط اور میرے یرے نزدیک خطرناک احساس حفاظت ان کے دلوں میں پیدا ہے۔ اگر مسلمانوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ اس فیصلہ کو جو آج سوراج کے متعلق ہو گا، بدلنا ان کی طاقت سے باہر ہو گا تو پھر وہ کبھی جلدی نہ کریں گے۔ اور اس ہزاروں خطرات سے پُر قدم کے اٹھانے سے پہلے وہ لاکھوں قسم کے سوالات کو حل کرنا چاہیں گے اور بیسیوں راستے واپسی کے سوچیں گے۔ لیکن افسوس ہے کہ بعض لوگوں نے دانستہ یا نادانستہ انہیں یہ یقین دلایا ہے کہ اگر اس فیصلہ میں کوئی نقص ہو گا تو اسے بعد میں بدلا جا سکتا ہے۔ اور اس وجہ سے مسلمان یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ صرف ایک تجربہ ہو گا۔ اگر اس میں نقص نظر آئے گا تو ہم اور تدبیر سوچیں گے۔ لیکن میں انہیں خوب اچھی طرح اور واضح کر کے سمجھا دینا چاہتا ہوں کہ معاملہ اس کے بالکل بر عکس ہے۔ آج جو قدم وہ اٹھائیں گے۔ اگر اس میں غلطی ہوگی تو الٹے پاؤں لوٹنا ان کے اختیار میں وگا۔ بلکہ جن امور کا ور کا مطالبہ انہوں نے کیا ہے اگر وہ آج انہیں منوانا چاہیں تو بہت زیادہ نہیں ہو گا۔ آسان ہے لیکن سوراج کے ملنے کے بعد ان مطالبات کا منوانا بالکل نا ممکن ہو گا۔ مسلمانوں کو یہ خوب سمجھ لینا چاہئے کہ جس امر کا ڈومینین سلف گورنمنٹ کیا ہے مطالبہ نہرو کمیٹی نے کیا ہے اور جس امر کا مطالبہ آج ڈومینین سلف گورنمنٹ قریباً ہر ایک ہندوستانی کر رہا ہے وه ہے۔ یعنی نیم آزاد حکومت۔ یہ نیم آزاد )DOMINION SELF۔ GOVERNMENT(