انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 372

انوار العلوم جلد 10 ۳۷۲ شهر و ر پورٹ اور مسلمانوں کے مع مصالح جب یہ شرطیں مکمل طور پر پوری ہو جائیں ، تب مسلمان جدا گانہ انتخاب کو مشترکہ انتخاب کے حق میں چھوڑنے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔" لیکن نہرو کمیٹی بغیر ان کے پورا ہونے کے صرف اپنا مشورہ دیگر جدا گانہ انتخاب کو اُڑا دیتی ہے حالانکہ مسلم لیگ کی شرط کے مطابق اسے چاہئے تھا کہ صاف طور پر لکھتی کہ مشترکہ انتخاب اس وقت سے شروع ہوگا۔ جب کہ پہلی تین باتیں پوری ہو جائیں۔ اسی طرح مسلم لیگ کے کے الفاظ یہ ہیں کہ تب مسلمان جدا گانہ انتخاب چھوڑنے کیلئے تیار ہونگے۔ انگریزی "Will be prepared to abandon" ریزولیوشن کے الفاظ یہ ہیں ۔ ان الفاظ میں اختیار ابھی مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہی رکھا گیا ہے۔ گو یہ مطلب نہیں کہ اگر مسلمان چاہیں تو پھر بھی نہ چھوڑیں۔ لیکن یہ مطلب ضرور ہے کہ مسلمان پہلے اپنی تسلی کر لیں کہ ان کی شرائط پوری ہو گئی ہیں تب وہ اپنا آخری فیصلہ دیں گے کہ اب جدا گانہ انتخاب کو اڑا دیا جائے۔ مگر نہرو رپورٹ نے ہرگز ان شرائط کا خیال نہیں کیا۔ مجھے خوب یاد ہے کہ شملہ کی آل پارٹیز مسلم کانفرنس میں جب یہ سوال بار بار پیش کیا جاتا تھا کہ اگر ہندو ہماری شرطوں پر راضی ہو جائیں لیکن بعد میں عذر کر دیں کہ ہم تو راضی ہیں لیکن فلاں فلاں روک کے سبب سے ابھی اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکتا تو پھر آپ کے ہاتھ میں کیا رہ جائے گا۔ تو مسٹر جناح بڑے زور سے کہتے تھے کہ ہماری سفارش کے لفظوں پر غور نہیں کیا گیا۔ ان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جُدا گانہ انتخاب اس وقت سے جاری کیا جائے گا۔ جب ہماری شرائط پر عملدرآمد ہو جائے گا۔ صرف ہندوؤں کے منظور کر لینے سے انتخاب کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ لیکن ابھی ایک سال نہیں گذرا کہ مسٹر جناح کے اس خیال کی تردید ہو گئی ہے۔ نہرو رپورٹ بغیر ان شرطوں پر عملدرآمد ہونے کے ، بلکہ بغیر ان شرطوں کو مکمل طور پر منظور کرنے کے جداگانہ انتخاب کا فیصلہ کرتی ہے اور ان شرائط کا ذکر تک نہیں کرتی۔ مسلمانوں کی ایک جماعت نے ہندوستان میں امن کے قیام کے لئے باوجود سخت خطرات کے جُدا گانہ انتخاب کے حق کو چھوڑنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ اور اپنی قوم سے لڑائی مول لی تھی۔ مگر اس کی تجاویز کا نہرو کمیٹی کے ہاتھوں جو حشر ہوا ہے ، میں اسے اوپر بیان کر چکا ہوں۔ جب شروع میں یہ حال ہے۔ جب سوراج 14ء کے حصول کے جوش میں ان لوگوں کو مسلمانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی تمنا ہے تو اس وقت کیا ہو گا جب حکومت مل جائے گی اور سب اختیار