انوارالعلوم (جلد 10) — Page 360
انوار العلوم جلد ۱۰ ٣٦٠ شهر ور پورت اور مسلمانوں کے مصالح موقع ملے۔ اور تاکہ باوجود اس کے کہ مسلمان بعض صوبوں میں کثیر التعداد ہیں۔ ہندوستانی مرکزی گورنمنٹ کی دخل اندازی کا شکار نہ ہوں جس میں ہندو اکثریت ہوگی۔ اب فرض کرو کہ بنگال، پنجاب، سندھ میں مسلمانوں کی اکثریت ہو۔ لیکن اگر فیڈرل حکومت کا طریق ہندوستان میں رائج نہ ہو گا تو ہندوستان کی مرکزی حکومت کو ہر وقت اختیار ہو گا کہ وہ ان صوبوں کی ترقی میں روک بن جائے اور آئے دن ان کے انتظام میں نقص نکال کر ان کے بعض اختیارات کو واپس لے لے یا ان کے پاس کردہ قوانین کو رد کر دے۔ اور اس طرح مسلمانوں کی اکثریت کا کچھ بھی فائدہ نہ رہے۔ یہ ایک خیالی شبہ نہیں ہے۔ بلکہ نہرو کمیٹی کی رپورٹ نے اس شبہ کو قوی کر دیا ہے۔ نہرو کمیٹی سندھ کی علیحدگی پر بحث کرتے ہوئے لکھتی ہے ۔ "ہمیں شبہ ہے کہ علیحدگی (سندھ) کی مخالفت کسی بڑے قومی خیال کی بنا پر نہیں ہے بلکہ مالی اقتصادی خیالات پر مبنی ہے۔ ہندوؤں کو ڈر ہے کہ اگر ایک جداگانہ صوبہ میں مسلمانوں کو اختیارات حاصل ہوئے تو ہندوؤں کی اقتصادی برتری کو نقصان پہنچے گا ہمیں یقین ہے کہ یہ خوف بلا وجہ ہے۔ ہندوستان کے تمام باشندوں میں سے سندھ کا ہندو اقدام و نفوذ کا مادہ سب سے زیادہ رکھتا ہے۔ سیاح اسے دنیا کے ہر گوشہ میں نهایت کامیاب تجارت کرتا ہوا اور اپنی کمائی سے اپنے ملک کی دولت بڑھاتا ہوا پاتا ہے۔ کوئی شخص اس اقدام کی طاقت کو سندھ کے ہندوؤں سے چھین نہیں سکتا۔ اور جب تک یہ طاقت ان میں موجود ہے۔ اس وقت تک ان کا مستقبل بالکل محفوظ ہے۔ نیز اس امر کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ صوبہ جات کی حکومتوں کے اختیارات محدود نگے۔ اور ایک مرکزی حکومت مت موجود ہوئی جو ہو گی جو تمام اہم محکمہ جات کے متعلق اختیار ہو رکھتی ہوگی ۔ " اول تو اس عبارت کو پڑھ کر اور دوسری طرف مسلمانوں کے خوف کے متعلق نہرو رپورٹ نے جو کچھ لکھا ہے اس سے انسان معلوم کر لیتا ہے کہ مسلمانوں سے کسی قسم کی ہمدردی کی جائیگی۔ کیونکہ جہاں ہندوؤں کے خوف کو اس محبت اور ادب سے دور کیا ہے۔ مسلمانوں کے خوف کے متعلق اسی رپورٹ میں لکھا ہے۔ ایک نو دارد ان اعداد کو دیکھ کر اور مسلمانوں کی تعداد کا اندازہ لگا کر غالبا یہی خیال کرے گا کہ مسلمان اپنے حقوق کی حفاظت کے خود قابل ہیں۔ اور انہیں کسی خاص