انوارالعلوم (جلد 10) — Page 341
انوار العلوم جلد ۱۰ لمولدا اظهار حقیقت ہے۔ نہ حدیث میں نہ قرآن میں یہ تفریق موجود ہے۔ اور حدیث لَا نَبِيَّ بَعْدِی ১১ میں بھی یہی نفی عام ہے ۔ " ۱۴ اس حوالہ سے ثابت ہے کہ جو شخص یہ فرق کرے کہ پرانے نبی کی واپسی کا عقیدہ رکھنے والا تو ختم نبوت کا قائل ۔ دت کا قائل ہے اور نئے نبی کی آمد کا عقیدہ رکھنے والا منکر ہے وہ شرارتی ہے۔ مگر شاید مولوی صاحب کی اور ان کے متبعین کی حضرت مسیح موعود کے حوالہ جات سے تسلی نہ ہو کیونکہ وہ خود مجتہد اعظم ہیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صریح تحریر کے بعد کہ مسیح کا بن باپ ہونا ہمارے عقیدہ میں شامل ہے، وہ اس کے خلاف تعلیم دے رہے ہیں۔ اور جبکہ ان کے نزدیک مرزا صاحب محض ایک مجدد ہیں تو پھر ان کی تحقیق کے خلاف اور ان کے عقیدہ کے مباین عقیدہ رکھنے میں ان کے نزدیک کوئی حرج بھی نہیں ہو گا۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ حضرت عمر سے جو مولوی صاحب کے نزدیک سب سے پہلے مجدد تھے اور ان کے محدث ہونے کی خود رسول کریم میں ہم نے شہادت دی تھی کئی مسائل میں صحابہ نے اختلاف کیا ہے اور آج تک لوگ اختلاف کرتے چلے جاتے ہیں اس لئے میں خود مولوی صاحب کی اپنی ہی ت ایک تحریر جو کسی پرانے زمانہ کی نہیں بلکہ قریب کے زمانہ کی ہے، پیش کرتا ہوں۔ جس انہیں معلوم ہو جائے گا کہ تھوڑا عرصہ پہلے ان کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ غیر احمدی ختم نبوت کے منکر ہیں اور یہ کہ نئے اور پرانے نبی کی آمد کے عقیدوں میں نتیجہ کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے۔ مولوی صاحب اپنے رسالہ موسومہ یہ دعوتِ عمل " میں تحریر فرماتے ہیں۔ قرآن شریف تو نبوت کو آنحضرت ملی الیم پر ختم کرتا ہے۔ مگر مسلمانوں نے اس اصولی عقیدہ کے بالمقابل یہ خیال کر لیا کہ ابھی آنحضرت مسلم کے بعد حضرت عیسی جو نبی ہیں ، وہ آئیں گے۔ اور یہ بھی نہ سوچا کہ جب نبوت کا کام تکمیل کو پہنچ چکا اور اس لئے نبوت ختم ہو چکی تو اب آنحضرت میم کے بعد کوئی نبی کس طرح آسکتا ہے ، خواہ پرانا ہو یا نیا۔ نبی جب آئے گا نبوت کے کام کے لئے آئے گا۔ اور جب نبوت کا کام ختم ہو گیا تو نبی بھی نہیں آسکتا۔ پرانے اور نئے سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ " ها پھر صفحہ ۱۳ پر لکھتے ہیں کہ :۔ مسلمانوں نے عقیدہ بنا لیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام جنہوں نے آنحضرت