انوارالعلوم (جلد 10) — Page 322
انوار العلوم جلد ۔ براءت حا 10 ۳۲۲ "پیغام صلح " کا پیغام جنگ نے حسب احکام قرآن اور دستور زمانہ کے اس امر کا اعلان کر دیا کہ چونکہ دوسرے فریق نے معاہدہ فتح کر دیا ہے اس ، اس لئے اب اس کا اثر ہم پر بھی کوئی نہیں ہو گا۔ جس طرح کہ رسول کریم ملی کے زمانہ میں صلح حدیبیہ حد : کے معاہدہ کے توڑنے پر رسول کریم مسلم ملی ایم نے نے اپنے 1 لئے حاصل کر لی تھی اور مکہ پر حملہ کر دیا تھا۔ اس اعلان پر بھی جیسا کہ ان لوگوں کی عادت ہے انہوں نے شور مچایا کہ گویا میں نے معاہدہ توڑا ہے حالانکہ یہ اس معاہدہ کو توڑتے چلے آ رہے تھے اور بیسیوں دفعہ توڑ چکے تھے جس کے ثبوت میں عنقریب إِنْشَاء الله ایک خلاصہ ان مضامین کا شائع کیا جائے گا جو دو سال کے عرصہ میں پیغام صلح اور الفضل میں ایک دوسرے کے مقابلہ میں شائع ہوتے رہے ہیں تاکہ دنیا کو معلوم ہو سکے کہ کس نے معاہدہ کو توڑا ہے اور کس نے نے اس ؟ کا پاس کیا ہے اور کس نے ظلم سے کام لیا ہے اور کون مظلوم ہے۔ بہر حال جو کچھ بھی ہوا وہ معاہدہ منسوخ ہوا ۔ اور ان لوگوں نے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ پچھلے دو سال میں جو کچھ گالیاں یہ لوگ دیتے رہے تھے وہ در حقیقت ان کے معیار اخلاق کے لحاظ سے ایک نہایت ہی شریفانہ فعل تھا اور در حقیقت ان کے بغض کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں شکر گزار ہونا چاہئے تھا کہ انہوں نے اپنے نفوس پر جبر کر کے صرف اس قدر پر کفایت کی جو ان کے اخبارات میں شائع ہوا تھا بد زبانی اور سخت کلامی کا ایک ایسا باب کھول دیا ہے کہ اسے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ انسان غصہ میں کس قدر گر جاتا ہے اور اخلاق حسنہ سے کس قدر دور جاپڑتا ہے۔ خدا تعالیٰ اس حالت بغض سے بچائے اور ایسے کینہ سے ہمیں اپنی پناہ میں رکھے۔ نہایت ہی حیرت کا مقام ہے کہ باوجود اس قدر تعدی اور متواتر ظلم کے اور حملہ حملہ کی ابتداء کے ”پیغام صلح" کے ۲۸ محرم کے پرچہ میں لکھا ہے۔ ” اس لئے پھر دشنام دہی کا دروازہ کھول دیا ہے ۔ " حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جوابی مضامین کے سوا اور وہ بھی چند ایک سے زیادہ نہیں ہمارے اخبارات نے ان لوگوں کے متعلق کچھ لکھا ہی نہیں۔ اس کے مقابلہ میں ان کے اخبارات میں کالم کے کالم ہمارے خلاف سیاہ کئے جاتے ہیں۔ اور گالیوں کی ایسی بوچھاڑ ہوتی ہے کہ الامان۔ اور میں یقیناً سمجھتا ہوں کہ اگر دوسرے فرقوں بلکہ غیر مذاہب کے غیر جانبدار لوگوں سے بھی پوچھا جائے گا تو وہ بلا تردد گواہی دیں گے کہ پیغام صلح جو کچھ ہمارے خلاف لکھتا ہے اور جس طرح سے لکھتا ہے اس سے بیسواں حصہ بھی ہم نہیں لکھتے اور ان کی