انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 298

انوار العلوم جلد ۱۰ ۲۹۸ دنیا کا محسن کا نتیجہ یہ ہوا کہ عباس جو نہایت ناز و نعم میں پلے ہوئے تھے اور امیر آدمی تھے۔ اس تکلیف کی تاب نہ لا سکے اور کراہنے لگے۔ ان کی آواز سن کر رسول کریم ملی کو سخت تکلیف ہوئی اور صحابہ نے دیکھا کہ آپ کبھی ایک کروٹ بدلتے ہیں کبھی دوسری اور انہوں نے سمجھ لیا کہ آپ کی اس بے چینی کا باعث حضرت عباس کا کر اہنا ہے اور انہوں نے چپکے سے حضرت عباس کی رسیاں ڈھیلی کر دیں۔ تھوڑی دیر کے بعد جب آپ کو ان کے کراہنے کی آواز نہ آئی تو آپ نے پوچھا کہ عباس کو کیا ہوا ہے کہ ان کے کراہنے کی آواز نہیں آتی۔ صحابہ نے کہا یا رسول اللہ آپ کی تکلیف کو دیکھ کر ہم نے ان کی رسیاں ڈھیلی کر دی ہیں۔ آپ نے فرمایا ۔ یا تو سب قیدیوں کی رسیاں ڈھیلی کر دو یا ان کی بھی سخت کر دو ۔ یہ قربانی کیسی شاندار ہے۔ حضرت عباس آپ کے چچا تھے اور محبت کرنے والے چا۔ لیکن آپ نے پسند نہ فرمایا کہ ان کی رسیاں ڈھیلی کر دی جائیں اور دوسرے قیدیوں کی رسیاں ڈھیلی نہ کی جائیں کیونکہ آپ جانتے تھے کہ جس طرح وہ میرے رشتہ دار ہیں۔ اسی طرح دوسرے قیدی دو سرے صحابہ کے رشتہ دار ہیں اور ان کے دلوں کو بھی وہی تکلیف ہے جو میرے دل کو۔ پس آپ نے اپنے لئے تکلیف کو برداشت کیا تاکہ انصاف اور عدل کا قانون نہ ٹوٹے۔ اور اس وقت تک حضرت عباس کو آرام پہنچانے کی اجازت نہ دی جب تک دوسرے قیدیوں کے آرام کی بھی ضرورت نہ پیدا ہو جائے۔ آپ کی جذبات کی قربانیوں کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ ایک دفعہ مخال دفعہ مخالفین آپ کے چا ابو طالب کے پاس آئے اور آکر کہا کہ اب بات برداشت سے بڑھ گئی ہے تم اپنے بھتیجے کو سمجھاؤ کہ وہ یہ تو بے شک کہا کرے کہ ایک خدا کو پوجو ۔ مگر یہ نہ کہا کرے کہ ہمارے بتوں میں کوئی طاقت بھی نہیں ہے۔ اگر تم اسے نہ روکو گے تو ہم پھر تم سے بھی مقابلہ کرنے کو تیار ہونگے اور ہر طرح کا نقصان پہنچائیں گے ۔ یہ وقت ان کے لئے بڑی مصیبت کا وقت تھا۔ انہوں نے رسول کریم میں سلیم کو بلایا اور خیال کیا کہ میرے ان پر بڑے احسان ہیں۔ یہ میری بات ضرور مان جائیں گے جب آ۔ جب آپ آئے تو انہوں نے کہا۔ اب تو لوگ بہت جوش میں آگئے همکی دے رہے ہیں کہ تمہاری وجہ سے مجھے اور میرے سب را رشتہ داروں کو تکلیف پہنچائیں گے۔ کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ تم بتوں کے خلاف وعظ کرنے سے رک جاؤ تاکہ ہم لوگ ان کی مخالفت سے محفوظ رہیں۔ اب غور کرو کہ ایک ایسا شخص جس نے بچپن سے پالا ہیں اور وہ و