انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 284

انوار العلوم جلد 10 ۲۸۴ دنیا کا محسن میں پیدا ہو کر جہاں کوئی طبیب نہ تھا۔ فرماتے ہیں کہ کوئی بیماری ایسی نہیں جس کی دوا نہ ہو۔ تجسس کرو علاج پالو گے۔ آپ کے اس حکم کے ماتحت مسلمانوں نے علم طب کی طرف توجہ کی اور بیسیوں بیماریوں کا علاج معلوم کر لیا۔ اور اب یورپ کے اطباء اس تعلیم کی صداقت کو ثابت کر رہے ہیں کہ مختلف لا علاج سمجھی جانے والی بیماریوں کا علاج تلاش کر رہے ہیں اور کئی بیماریوں کا علاج دریافت کر چکے ہیں۔ یہ تعلیم صرف امراض ہی کے متعلق نہیں بلکہ دوسری ضروریات کے متعلق بھی ہے اور اس اصل پر عمل کرنے والے ہمیشہ کام کامیابی کا منہ دیکھتے رہیں گے۔ اخلاقی ترقی کاگر پانچواں احسان آپ کی وہ تعلیم ہے جو آپ نے اخلاقی ترقی کے متعلق دی ہے اور جس سے بدی کا قلع قمع ہو جاتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ انسان خواہ صلی کیسی گندی حالت میں پہنچ جائے یہ نہ سمجھے کہ وہ نیک نہیں بن سکتا۔ اس تعلیم کے ذریعہ سے رسول کریم میں السلام نے مایوسی اور ناامیدی نا امید؟ کی جڑ کاٹ کر رکھ دی ہے ۔ آپ نے خدا تعالیٰ سے علم پاکر فرمایا ۔ إِنَّهُ لَايَا نَسُ مِنْ رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَفِرُونَ ۲۳ کہ خدا کی رحمت سے سوائے انکار کرنے والے کے اور کوئی مایوس نہیں ہوتا۔ اب دیکھو اس اصل کے ماتحت کس حد تک امید کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ عام طور پر بدی اسی طرح پھیلتی ہے کہ جو شخص بدیوں میں مبتلا ہو چکا ہو ۔ وہ سمجھتا ہے کہ اتنی بدیاں کر لی ہیں تو اب میں کہاں نیک بن سکتا ہوں اور جب وہ یہ رائے قائم کر لیتا ہے تو وہ بدیوں میں بڑھتا جاتا ہے۔ لیکن اگر کوئی یہ سمجھ لے کہ خواہ اس سے کتنی ہی بدیاں سرزد ہو چکی ہیں۔ وہ نیک ہو سکتا ہے اور واپسی کا راستہ اس کے لئے بند نہیں ہے تو اس کے نیک بن جانے کا ہر وقت احتمال ہے۔ مذکورہ بالا اصل کے ماتحت سچے دل سے جستجو کرنے والا ضرور کامیاب ہو جاتا ہے ہی رسول کریم کی کا دنیا پر یہ بھی احسان ہے کہ آپ نے یہ تعلیم دی ہے کہ بچی جستجو کبھی ضائع نہیں جاتی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ یہ تعلیم دیا کرتے تھے کہ والَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا ۲۴ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ ہمارے ملنے کے لئے کوشش کریں گے ہم ضرور ان کو ہدایت دے دیں گے۔ یعنی جو بھی سچے دل سے جستجو کرے گا وہ خدا کو پالے گا۔ یہ