انوارالعلوم (جلد 10) — Page 269
انوار العلوم جلد ۱۰ ۲۶۹ گزارا۔ جس شخص کے کھانے پینے کی یہ حالت ہو اسے کون عیاش کہہ سکتا ہے۔ پھر عیاشی کے لئے عمدہ دنیا کا محسن عمدہ سامان جمع کئے جاتے ہیں۔ تا کہ عیاشی میں لذت پیدا ہو۔ روں میں صرف صلی دوم عمدہ سامان مگر رسول کریم میں کے گھروں کا یہ حال تھا کہ بعض گھروں بھیڑ بکری کی ایک کھال تھی۔ جس پر میاں بیوی اکٹھے سو رہتے تھے۔ چنانچہ حضرت عائشہ کہتی ہیں ہمارے گھر میں ایک ہی بستر تھا۔ اور ہمیں اکٹھے سونا پڑتا۔ جب رات کو رسول کریم میں ایم نماز کے لئے اٹھتے۔ تو اس بچھونے پر نماز پڑھتے اور مجھے اپنی ٹانگیں اکٹھی کر لینی پڑتیں۔ پھر عیاش باکرہ عورتوں کا دلدادہ ہوتا ہے۔ مگر رسول کریم میں ہم نے با اختیار باکرہ عورتیں بادشاہ ہونے کی حالت مین کسی باکرہ سے شادی نہ کی۔ ہاں مکہ میں ایک باکرہ حضرت عائشہ سے شادی کی۔ مگر جب صاحب اختیار ہوئے تو ایک بھی نکاح کسی باکرہ سے نہ کیا۔ اگر آپ عیش پسند ہوتے تو کیا آپ باکرہ عورتوں سے شادی نہ کر سکتے ۔ کئی باکرہ عورتوں نے اپنے آپ کو نکاح کے لئے پیش بھی کیا۔ مگر آپ نے کسی سے نکاح نہ کیا۔ بلکہ ان کا نکاح نے دوسروں سے کرا دیا۔ آپ پھر عیاش انسان پہلی عورت سے زیادہ حسین تلاش کرتا ہے۔ جو حسین عورت کی تلاش پہلی عورتوں سے زیادہ اس کی شہوات کو پورا کر سکے ۔ مگر سب اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت عائشہ کے درجہ کی آپ کی کوئی بھی بیوی نہ تھی۔ اگر آ۔ نَعُوذُ بِاللهِ یا ہوتے تو جو وتے تو جو نکاح آپ نے بعد میں ۔ آپ نے بعد میں کئے وہ زیادہ حسین عورتوں سے کرتے۔ مگر ارونگ جیسا دشمن بھی آپ کے متعلق لکھتا ہے۔ Upon this wife thus chosen in the very Blossom of years, the Prophet dotted more than any of those whom he subsequently married۔ یعنی اس طرح چنی ہوئی یہ بیوی ) عائشہ الا ) جس سے آپ نے اس کے عنفوان شباب میں بیاہ کیا ہے ایسی تھی کہ جس پر نبی اپنی تمام دوسری بیبیوں سے جو بعد میں بیاہی گئیں فریفتہ تھا۔ یہ ایک دشمن اور سخت دشمن کی شہادت ہے۔ اگر نَعُوذُ بِاللهِ آپ عیاش ہوتے تو آپ عائشہ کے بعد ان سے زیادہ خوبصورت نہایت نوجوانی کی عمر کی بیویوں کو تلاش کرتے۔ مگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔ اور ایسی عورتوں سے شادی کی جو عائشہ کا مقابلہ اپنی عمر اور اپنی ظاہری خوبی کے لحاظ سے نہیں کر سکیں اور ایسی حالت میں شادی کی۔ جب کہ آپ عائشہ کے والد کے