انوارالعلوم (جلد 10) — Page 249
انوار العلوم جلد ۱۰ ۲۴۹ دنیا کا محسن قربانیاں کرائی ہیں اور تجھ کو پاک کیا گیا ہے۔ صلوة کے معنی دعا اور رحمت کے ہیں۔ پس اس کے معنی نیک سلوک اور احسان کے ہوئے۔ نُسُک کے معنی ذبح کر دینے کے ہیں۔ پس اس کے معنی سزا دینے کے ہوئے - مَحْيَايَ یعنی زندگی ذاتی آرام اور آسائش اور معاہ یعنی موت ذاتی قربانی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ پس اس آیت میں یہ بتایا کہ کہو میری عبادت یا میرا لوگوں سے حسن سلوک ( یہ بھی صلوٰة کے معنی ہیں) اور میرا قربانیاں کرنا اور میری اپنی زندگی اور اپنی موت یہ سب خدا ہی کے لئے ہے۔ پہلی چیز جو صلا تی ہے۔ اس میں لوگوں پر احسان کرنے کا دعوی کیا ہے۔ یعنی فرمایا میرے ذریعہ لوگوں پر احسان ہوئے ہیں۔ دوسرے نُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِی میں بتایا کہ میرا مارنا یا مرنا یعنی قربانی کرنا یہ بھی خدا ہی کے لئے ہے۔ اس آخری جملہ میں تقدس کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ تقدس کے معنی پاک ہونے کے ہیں اور جو چیز خدا کے لئے ہوگی۔ وہ پاک نہ ہوگی تو اور کونسی پاک ہوگی پس اس آیت میں تینوں باتیں بیان کر دی گئی ہیں۔ ایک تو اس آیت میں دعوئی بیان کیا گیا ہے۔ اور دوسرے گر بھی بتا دیا ہے کہ احسان اور قربانی اور تقدس کی دلیل کیا ہوتی ہے۔ اس آیت میں یہ گر بتایا گیا ہے کہ کسی شخص کے احسان یا قربانی یا تقدس کو ایک خاص گر دیکھتے وقت اس کے اعمال کے ٹکڑوں کو نہ لینا چاہئے بلکہ تمام زندگی پر نظر کرنی چاہئے۔ اور اس کے اعمال کے مقصد کو دیکھنا چاہئے صرف سزا کو دیکھ کر یہ خیال کر لینا کہ یہ شخص ظالم ہے درست نہیں۔ یا کسی تکلیف دہ عمل کو دیکھ کر یہ سمجھنا کہ یہ شخص ظالم ہے صحیح نہیں۔ کسی کو سزا دیتے ہوئے دیکھ کر کوئی کہے کہ یہ کتنا بڑا ظالم ہے، تو بسا اوقات وہ اس کے متعلق رائے قائم کرنے میں غلطی کر جائے گا۔ مثلاً ہمارے سامنے اس وقت مدرسہ کی عمارت ہے۔ یہاں سے ایک شخص استاد کے بید گذرے اور دیکھے کہ ہیڈ ماسٹر ایک لڑکے کو بید لگا رہا ہے اور ید لگا رہا ہے اور وہ کسے یہ کتنا بڑا ظلم ہو ، ہو رہا ہے تو یہ درست نہ ہو گا۔ کیونکہ اگر ا اگر استاد کسی لڑکے کی شرارت پر اسے سزا نہ دے گا تو اس لڑکے کے ماں باپ کو حق ہو گا کہ وہ کہیں، استاد نے اُن کے لڑکے کو آوارہ کر دیا ہے اور اس کی اصلاح نہیں کی۔ اور ممکن ہے کہ لڑکا خراب ہو کر کہیں کا کہیں چلا جائے۔ مثلا لڑکے نے چوری کی یا امتحان میں نقل کی یا کوئی بدکاری کی۔ اب اگر پیار و محبت سے سمجھانے پر وہ نہیں سمجھتا اور شرارت میں بڑھتا جاتا ہے۔ جس پر استاد اسے سزا دیتا ہے۔ تو یہ ظلم نہیں ہو گا