انوارالعلوم (جلد 10) — Page 239
انوار العلوم جلد ۱۰ ۲۳۹ عورتوں کو غلامی سے نجات دلانے والائی اور دنیا بھر کی عورتوں کو آزاد کر دیا۔ اور ماؤں کو آزاد کر کے بچوں کو بھی غلامی کے خیالات سے محفوظ کر لیا اور اعلیٰ خیالات اور بلند حوصلگی کے جذبات کے اُبھرنے کے سامان پیدا کر دیئے۔ مگر دنیا نے اس خدمت کی قدر نہ کی اس نے وہی بات جو احسان کے طور پر تھی اسے ظلم قرار دیا۔ طلاق اور خلع کو فساد قرار دیا۔ ورثہ کو خاندان کی بربادی کا ذریعہ عورت کے مستقل حقوق کو خانگی زندگی کو تباہ کرنے والا۔ اور وہ اسی طرح کرتی چلی گئی اور کرتی چلی گئی اور تیرہ سو سال تک وہ اپنی نابینائی سے اس بینا کی باتوں پر ہستی چلی گئی اور اس کی تعلیم کو خلاف اصول فطرت قرار دیتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ وقت آگیا کہ خدا کے کلام کی خوبی ظاہر ہو اور جو تہذیب و شائستگی کے دعویدار تھے وہ رسول کریم میں یہ کے تہذیب سکھانے والے احکام کی پیروی کریں۔ ان میں سے ہر ایک حکومت ایک ایک کر کے اپنے قوانین کو بدلے اور رسول کریم مسلم کے بتائے ہوئے اصول کی پیروی کرے۔ انگریزی قانون جو قانون جو طلاق اور خلع کے لئے کسی ایک فریق کی بدکاری اور ساتھ ہی ظلم اور مار پیٹ کو لازمی قرار دیتا تھا ۱۹۲۳ء میں بدل دیا گیا اور صرف بدکاری بھی طلاق اور خلع کا موجب تسلیم کرلی گئی۔ نیوزی لینڈ میں ۱۹۱۲ء میں فیصلہ کر دیا گیا کہ سات سالہ پاگل کی بیوی کا نکاح فسخ کیا جا سکتا ہے اور ۱۹۲۵ء میں فیصلہ کیا گیا کہ اگر خاوند یا بیوی عورت اور مرد کے حقوق کو ادا نہ کریں تو طلاق یا خلع ہو سکتا ہے اور تین سال تک خبر نہ لینے پر طلاق کو جائز قرار دیا گیا (بالکل اسلامی فقہاء کی نقل کی ہے مگر تیرہ سو سال اسلام پر اعتراض کرنے کے بعد) آسٹریا کی ریاست کو سینز لینڈ میں پانچ سالہ جنون کو وجہ طلاق تسلیم کر لیا گیا ہے۔ ٹسمانیا میں ۱۹۱۹ء میں قانون پاس کر دیا گیا ہے کہ بد کاری چار سال تک خبر نہ لینا، بد مستی اور تین سال تک عدم توجہی قید مار پیٹ اور جنون کو وجہ طلاق قرار دیا گیا ہے۔ علاقہ وکٹوریا میں ۱۹۲۳ء میں قانون پاس کر دیا گیا ہے کہ ۔ ہے کہ خاوند اگر تین سال خبر نہ لے بد کاری کرے، خرچ نہ د چ نہ دے یا سختی کرے ، قید مار پیٹ یا عورت کی طرف سے بدکاری یا جنون یا سختی اور فساد کا ظہور ہو تو طلاق اور خلع ہو سکتا ہے۔ مغربی آسٹریلیا میں علاوہ اوپر کے قوانین کے حاملہ عورت کی شادی کو بھی فسخ قرار دیا گیا ہے ( اسلام بھی اسے ناجائز قرار دیتا ہے کیوبا جزیرہ میں ۱۹۱۸ء میں فیصلہ کر دیا گیا ہے کہ بدکاری