انوارالعلوم (جلد 10) — Page 236
انوار العلوم جلد ها بسرير عورتوں کو غلامی سے نجات دلانے والا نی تھا۔ شادی کی زندگی بجائے آرام کے اس کے لئے مصیبت بن جاتی تھی اس کا کام ہو تا کہ وہ خاوند اور بیوی دونوں کا کام بھی کرے اور خاوند کا انتظار بھی کرے۔ خاوند کا فرض یعنی گھر کے اخراجات کے لئے کھانا بھی اس کے سپرد ہو جاتا اور عورت کی ذمہ داری کہ بچوں کی نگہداشت اور ان کی پرورش کرے یہ بھی اس کے سپرد رہتا۔ ایک طرف قلبی تکلیف دوسری طرف ماری ذمہ داریاں۔ یہ سب اس بے کس جان کے لئے روا رکھی جاتی تھیں۔ عورتوں کو مارا پیٹا جاتا اور اسے خاوند کا جائز حق تصور کیا جاتا۔ خاوندوں کے مرنے کے بعد عورتوں کا زبر دستی خاوند کے رشتہ داروں سے نکاح کر دیا جاتا تھا یا اور کسی شخص کے پاس قیمت لے کر بیچ دیا جاتا۔ بلکہ خاوند خود اپنی عورتوں کو بیچ ڈالتے۔ پانڈوں جیسے عظیم الشان شہزادوں نے اپنی بیوی کو جوئے میں ہار دیا اور ملک کے قانون کے سامنے دروپدی لے جیسی شریف شہزادی اُف نہ کر سکی۔ بچوں کی تعلیم یا پرورش میں ماؤں کی رائے نہ لی جاتی تھی اور ان کا بچوں پر کوئی حق نہ تسلیم کیا جاتا تھا۔ اگر ماں اور باپ میں جدائی واقع ہو تو بچوں کو باپ کے سپرد کیا جاتا تھا۔ عورت کا گھر سے کوئی تعلق نہ سمجھا جاتا تھا نہ خاوند کی زندگی میں نہ بعد ۔ جب چاہتا خاوند اسے گھر سے نکال دیتا تھا اور وہ بے خانماں ہو کر ادھر اُدھر پھرتی رہتی۔ رسول کریم میں ایم کے ذریعہ سے ان سب ظلموں کو یک قلم مٹا دیا گیا۔ آپ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے عورتوں کے حقوق کی نگہداشت خاص طور پر سپرد فرمائی ہے میں خدا تعالی کی طرف سے اعلان کرتا ہوں کہ مرد اور عورت بلحاظ انسانیت برابر ہیں اور جب وہ مل کر کام کریں تو جس طرح مرد کو بعض حقوق عورت پر حاصل ہوتے ہیں ، اسی طرح عورت کو مرد پر بعض حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ عورت اسی طرح جائیداد کی مالک ہو سکتی ہے جس طرح مرد ہو سکتا ہے اور خاوند کا کوئی حق نہیں کہ عورت کے مال کو استعمال کرے جب تک کہ عورت خوشی سے بطور ہدیہ اسے کچھ نہ دے۔ اس سے جبرا مال لینا یا اس طرح لینا کہ شبہ ہو کہ عورت کی حیاء انکار سے مانع رہی ہے نادرست ہے۔ خاوند بھی جو کچھ بطور ہدیہ اسے دے وہ عورت کا ہی مال ہو گا اور خاوند اسے واپس نہیں لے سکے گا۔ وہ اپنی ماں اور اپنے باپ کے مال کی اسی طرح وارث ہوگی جس طرح کہ بیٹے اپنے ماں باپ کے وارث ہوتے ہیں ہاں چونکہ خاندانی ذمہ داریاں مرد پر ہوتی ہیں اور عورت پر صرف اپنی ذات کا بار ہوتا ہے اس لئے اسے مرد سے آدھا حصہ عملے گا۔ اسی طرح ماں بھی اپنے بیٹے کے مال سے اسی طرح حصہ پائے گی