انوارالعلوم (جلد 10) — Page 221
انوار العلوم جلد 10 ۲۲۱ سائمن کمیشن اور پنجاب کو نسل أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - هُوَ النَّاصِرُ - سائمن کمیشن اور پنجاب کو نسل سائمن کمیشن (SIMON COMMISSION) کے پنجاب آنے پر ممبران پنجاب کو نسل نے فیصلہ کیا تھا اور میرے نزدیک نہایت صحیح فیصلہ کیا تھا کہ پنجاب کو نسل کمیشن سے تعاون کرے گی اور اس کی خواہش کے مطابق اپنے میں سے سات آدمی مقرر کرے گی تاکہ وہ سائمن کمیشن سے مل کر پنجاب کے مطالبات پر غور اور فکر کریں۔ اس ریزولیوشن کے مطابق پچھلے دنوں کو نسل نے سات آدمی مقرر کئے ہیں جن میں سے تین ہندو ایک سکھ ایک انگریز اور دو مسلمان ہیں۔ اس فیصلہ پر مسلم اخبارات میں خصوصاً اور مسلم پبلک میں عموماً اظہار ناراضگی ہو رہا ہے اور میرے نزدیک مسلمانوں کا اس فیصلہ پر ناراض ہونا درست اور جائز ہے۔ موجودہ صورت معاملات یہ ہے کہ مسلمان جو اس صوبہ کی آبادی کا اس فیصلہ کا مقر اثر پچیس فیصدی ہیں ان کے نمائندے میں فیصدی سے بھی کم ہیں اور پچپن ہندو جو اٹھائیس فیصدی ہیں ان کے نمائندے بیالیس فیصدی ہیں۔ اگر گورنمنٹ کی طرف سے ایسا کیا جاتا تب بھی یہ ایک خطرناک بات تھی لیکن موجودہ صورت میں تو اس فیصلہ پر مسلمان ممبران کی رضا مندی کی بھی مہر ثبت معلوم ہوتی ہے پس ظاہرہ طور پر ہماری پوزیشن یہ ہے کہ مسلمان اپنی مرضی سے اس ادنیٰ درجہ کو قبول کر چکے ہیں۔ موجودہ فیصلہ میں یہ خطرناک نقائص ہیں کہ اول تو مسلمانوں کو وہ حق نہیں ملا جو ملنا چاہئے تھا۔ اگر صوبہ کی آبادی کا لحاظ رکھا جاتا تو انہیں چار ممبر ملنے چاہئیں تھے اور اگر ان حقوق XXX