انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 214

انوار العلوم جلد ۱۰ الد جامعہ احمدیہ کے افتتاح کے موقع پر خطاب فارسی بعض کو روسی بعض کو سپینش وغیرہ زبانوں کی اعلیٰ تعلیم دینی چاہئے۔ کیونکہ جن ملکوں میں مبلغوں کو بھیجا جائے ، ان کی زبان جاننا ضروری ہے۔ بظاہر یہ باتیں خواب و خیال نظر آتی ہیں۔ مگر ہم اس قسم کی خوابوں کا پورا ہونا اتنی بار دیکھ چکے ہیں کہ دوسرے لوگوں کو ظاہری باتوں کے پورے ہونے پر جس قدر اعتماد ہوتا ہے ، اس سے بڑھ کر ہمیں ان خوابوں کے پورے ہونے پر یقین ہے۔ ہم نے دنیا کی صاف اور واضح باتوں کو اکثر جھوٹا ثابت ہوتا دیکھا ہے مگر ان خوابوں کو ہمیشہ پورا ہوتا دیکھتے ہیں۔ انہی خوابوں میں سے ایک خواب یہ بھی تھا کہ اس میدان میں جہاں آج یہ جلسہ ہو رہا ہے، دن کے وقت دن کے وقت کوئی اکیلا نہ آسکتا تھا اور کہا جاتا تھا ۔ ر کہا جاتا تھا یہاں جن رہتے ہیں۔ یہ جگہ جہاں یہ کو بھی ہے ، جہاں یہ سرسبز باغ ہے، جہاں سینکڑوں آدمی چلتے پھرتے ہیں، یہاں سے کوئی شخص گزرنے کی جرأت نہ کرتا تھا۔ کیونکہ سمجھا جاتا تھا یہاں جن رہتے ہیں۔ مگر اس جگہ کے متعلق خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دکھایا کہ یہاں شہر بس رہا ہے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب قادیان کی دیواروں کے ساتھ پانی کی لہریں ٹکراتی تھیں۔ جب قادیان کی زندگی احمدیوں کے لئے اس قدر تکلیف دہ تھی کہ مسجد میں خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے آنے سے روکا جاتا۔ راستہ میں کیلئے گاڑ دیئے جاتے تاکہ گزرنے والے گریں۔ اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے بتایا مجھے دکھایا گیا ہے یہ علاقہ اس قدر آباد ہو گا کہ دریائے بیاس تک آبادی پہنچ جائے گی اس وقت کس کے ذہن میں یہ بات آسکتی تھی کہ قادیان کی بستی ترقی کر سکے گی۔ یہ ویران جنگل جہاں جنات پھرتے تھے ، جن ہیں تھے کہ چور چکار لوگوں کو لوٹتے مارتے تھے اور لوگوں نے سمجھ لیا تھا یہاں جنات رہتے ہیں۔ تو جہاں جنات پھرتے تھے کس کو توقع ہو سکتی تھی کہ یہاں فرشتے پھرا کریں گے۔ لوگوں میں مشہور ہے کہ ابلیس فرشتہ تھا جو بگڑ کر ابلیس بن گیا۔ یہ جھوٹ مشہور ہے مگر ہم نے حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام کے ذریعہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ وہ جو ابلیس تھے ، فرشتے بن گئے۔ فرشتے کا ابلیس بننا جھوٹی کہانی ہے۔ مگر اس میں شک نہیں کہ ہم نے جنوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ملائکہ بنتے اور ابلیس کو فرشتہ بنتے دیکھا ہے۔ ہم نے ان ویرانوں کو آباد ہوتے دیکھا ہے جن کی طرف آنے کا کوئی رُخ بھی نہ کرتا تھا۔ غرض ہم نے ایک ایک بات جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی اپنی آنکھوں سے پوری ہوتی دیکھی۔ اور اس وقت کے لحاظ سے نہ کہ آئندہ کے لحاظ سے ترقی کی آخری کڑی جو ریل ہے ،