انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 211

انوار العلوم جلد ۱۰ ۲۱۱ جامعہ احمدیہ کے افتتاح کے موقع پر خطاب فیصلہ کرتا کہ میں ایسا نہیں کروں گا۔ پس جس طرح کوئی بات کرنا خدا تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرتا ہے اسی طرح موقع اور محل کا لحاظ رکھتے ہوئے کوئی فعل نہ کرنا بھی خدا تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرتا ہے۔ غرض اللہ تعالیٰ نے بھی قانون مقرر کئے ہوئے ہیں۔ ان قوانین میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کسی کام کے لئے لئے اس اس نے جو جو رستے اور طریق مقرر کئے ہیں اگر ان ان پر پر ۔ چلا جائے تو بابرکت نتائج نکلتے ہیں اور اگر نہ چلا جائے تو ایسے بابرکت نتائج نہیں نکلتے جیسی امید رکھی جاتی ہے۔ پس اس میں شبہ نہیں کہ سب کام خدا تعالیٰ ہی کرتا ہے مگر اس میں بھی شبہ نہیں ہے کہ مقررہ قانون کے مطابق انسان کے لئے کوشش کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس میں شبہ نہیں خدا تعالیٰ نے رسول کریم ملی کے متعلق فرمایا - مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمى ، خدا تعالیٰ نے بدر کے موقع پر جو برکت نازل کی اور مخالفوں کو شکست ہوئی، اس کے متعلق فرمایا۔ اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم) تم نے نہیں پھینکا تھا۔ مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا جب کہ تم نے پھینکا تھا۔ اگر سارا کام خدا تعالیٰ نے ہی کرنا تھا تو پھر إِذْ رَمَيْتَ کہنے کی کیا ضرورت تھی۔ اس موقع پر خدا تعالیٰ نے نصرت دی ۔ اور ایسی نصرت دی کہ اس کے متعلق کہا جا سکتا ہے۔ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمی سب کچھ خدا نے ہی کیا تھا۔ مگر اس کے ساتھ اِذْ رَمَيْتَ کہنا بتاتا ہے کہ جب تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں پھینکا، خدا تعالیٰ نے بھی نہیں پھینکا تھا۔ بے شک نتیجہ خدا کے پھینکنے سے نکلا مگر اس وقت جب رَمَيْتَ ہوا ۔ یعنی جب رسول کریم ملی ام نے پھینکا۔ اسی طرح خدا تعالیٰ نے بحر کو پھاڑا مگر اس وقت جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کے کہنے پر سونٹا مارا۔ پھاڑا تو خدا نے تھا مگر پھاڑنے کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے وابستہ کر دیا۔ مطلب یہ ہے کہ پہلے کوشش کرو پھر خدا تعالیٰ کی طرف سے نتائج نکلیں گے۔ 6 غرض تمام کاموں کے لئے خواہ وہ روح روحانی ہوں یا جسمانی یہ قاعدہ مقرر ہے کہ مقدور بھر کوشش کرو۔ اپنی طرف سے کو تاہی نہ کرو، پھر جو کمی رہ جائے گی وہ خدا تعالیٰ پوری کر دے گا۔ اس قانون کے ماتحت ضروری ہے کہ سلسلہ کی تبلیغ اور اشاعت کے لئے ایسی جماعت تیار کی جائے جو ہمیشہ کے لئے سلسلہ کے مذہبی اور تبلیغی کاموں کی اپنے آپ کو حامل سمجھے۔ ایسی جماعت تیار کرنا بدعت نہیں بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ یہ ایک گم شدہ چیز ہے جسے اس زمانہ میں