انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 200

انوار العلوم جلد 1 ۲۰۰ حضرت مسیح موعود کے کارنامے عجیب قسم کے خیالات پھیلے تھے۔ جن کی وجہ سے دنیا اس عقیدہ سے ہی متنفر ہو رہی تھی اور معاد کو وہم قرار دے رہی تھی۔ مختلف مذاہب کے لوگ یہ عقیدہ رکھتے تھے۔ (1) بعض لوگوں کا یہ خیال تھا کہ نجات عدم احساس کا نام ہے۔ جیسے بدھوں کا خیال تھا۔ ہیں۔ (۲) بعض کا خیال تھا کہ نجات خدا میں فنا ہو جانے کا نام خدا میں فنا ہو جانے کا نام ہے۔ سناتی ہندو اس عقیدہ کے (۳) بعض کا خیال تھا کہ نجات مادہ سے روح کے تعلق کے کامل طور پر آزاد ہو جانے کا نام ہے۔ جینیوں کا یہی خیال تھا۔ آئندہ حا (۴) بعض کا خیال تھا۔ نجات عارضی اور وقتی ہے۔ جیسے آریہ ۔ (۵) بعض کا خیال تھا کہ جزا و سزا صرف روحانی ہیں۔ جیسے سپر چولسٹ۔ (۲) بعض کا خیال تھا کہ جزا و سزا خالص جسمانی ہیں جیسے یہود اور مسلمان۔ (۷) بعض کا خیال تھا کہ دوزخ جسمانی اور جنت روحانی ہے جیسے مسیحی۔ (۸) بعض کا خیال تھا۔ دوزخ کی سزا میں جنت کی نعماء کی طرح ہمیشہ کے لئے ہیں۔ مگر یہ سب امر نہایت ہی قابل اعتراض اور شک و شبہ پیدا کرنے والے تھے۔ اگر جو عدم احساس نجات ہے تو خدا نے انسان کو پیدا ہی کیوں کیا؟ پیدا تو اس چیز ! را تو اس چیز کیلئے کیا جاتا ہے حاصل ہونے والی ہو۔ عدم احساس تو پیدائش سے پہلے موجود تھا۔ پھر پیدا کرنے کی کیا غرض تھی؟ اسی طرح نجات اگر خدا میں فنا ہو جانے کا نام ہے تو یہ انعام کیا ہوا۔ فناء خواہ الگ ہو خواہ خدا میں ایک کامل الاحساس ہستی کے لئے انعام نہیں کہلا سکتی۔ اگر مادہ سے نجات کا نام نجات ہے تو ارواح پہلے ہی مادہ میں کیوں ڈالی گئیں ۔ اس نئے دور کے اجراء کی غرض کیا تھی۔ اسی طرح یہ بھی غلط ہے کہ جزا و سزا صرف روحانی ہیں۔ کیونکہ انسان کی ایک خاصیت یہ ہے کہ وہ وہ باہر کے اثرات کو جذب کرنا چاہتا ہے اور انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ باہر سے بھی لذت حاصل کرے اور اندر سے بھی۔ اسی طرح وہ جو کہتے ہیں کہ جزا و سزا صرف جسمانی ہیں وہ بھی غلط کہتے ہیں۔ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ انسان کو ابدی زندگی اس لئے دی جائے گی کہ وہ کھائے اور پیئے اور ایک بے مقصد زندگی بسر کرے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سب خیالات کی تردید کی ہے اور