انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 197

انوار العلوم جلد ) ۱۹۷ حضرت مسیح موعود کے کارنامے کے آنے کے بعد کھلا ہے۔ مسیحی لوگ اس خیال کے پابند ہیں۔ ان کے نزدیک ہدایت عام حضرت مسیح ناصری کے ذریعہ سے ہوئی ہے۔ (۳) بعض کا خیال تھا کہ ہدایت قومی تو ان کی قوم سے ہی مخصوص ہے لیکن خاص خاص افراد دوسری اقوام کے بھی نجات حاصل کر سکتے ہیں اگر وہ خاص زور لگا ئیں ۔ سناتن دھرمی لوگوں کا یہی عقیدہ ہے۔ وہ اصل اور سچاند ہب تو اپنا تسلیم کرتے ہیں۔ مگر ان کا یہ عقیدہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی اور مذہب کا خدا تعالی کی محبت کو دل میں پیدا کر کے مجاہدہ کرے تو اللہ تعالٰی اس پر بھی رحم کرتا ہے گویا اسے ایک ایسا راستہ مل جاتا ہے جو گو سیدھا تو منزل مقصود تک نہیں پہنچتا لیکن چکر کھا کر پہنچ جاتا ہے۔ مسلمانوں کے خیالات بھی باوجود اس کے کہ قرآن کریم نے اس مسئلہ کو حل کر دیا تھا غیر معین تھے۔ وہ یہ خیال کرتے تھے کہ بنی اسرائیل کے نبیوں کے ذریعہ دنیا کی ہدایت ہوتی رہی ہے۔ حالانکہ بنی اسرائیل کے نبی صرف اپنی قوم کی طرف تھے۔ نیز وہ ایک طرف تو یہ تسلیم کرتے تھے کہ ہر قوم میں نبی آئے ہیں۔ دوسری طرف بنی اسرائیل کے سوا باقی اقوام کو غیر کتابی سمجھتے تھے اور ان کے نبیوں کو جھوٹا قرار دیتے تھے۔ اس قسم کے خیالات کا نتیجہ یہ تھا کہ مختلف اقوام میں صلح ناممکن ہو رہی تھی۔ اور ضد میں آکر سب لوگ کہنے لگ گئے تھے کہ صرف ہم ہی نجات پائیں گے، ہمارے ہوا اور کوئی نہیں نجات پا سکتا، ہمارا ہی مذہب اصل مذہب ہے۔ گویا ہر قوم خدا تعالیٰ کی اکلوتی بیٹی بننا اور اس حیثیت میں رہنا چاہتی تھی۔ اور دوسری قوموں سے اگر کسی رعایت کے لئے تیار تھی تو صرف اس قدر کہ تم بھی ہمارے مذہب میں داخل ہو کر کچھ حصہ خدا کے فضل کا پا سکتے ہو۔ اور دوسری اقوام کی قدیم قومی روایات اور احساسات کو مٹاکر ایک نئی راہ پر لانا چاہتی تھی۔ یعنی یہ امید رکھتی تھی کہ وہ اپنے بزرگوں کو جھوٹا اور فریبی قرار دیتے ہوئے اور اپنی ساری پرانی تاریخ کا ورق پھاڑتے ہوئے ان میں آکر مل جائے اور نئے سرے سے ایک پنیری کی طرح جو نئی زمین میں لگائی جاتی ہے بڑھنا شروع کرے۔ چونکہ یہ ایک ایسی بات تھی جس کے کرنے کے لئے انسان بہت ہی کم تیار ہو سکتا ہے۔ خصوصاً ایسا انسان جس کے آباء شاندار کام کر چکے ہوں اور علوم کے حامل رہ چکے ہوں اس لئے قومی جنگ جاری تھی اور صلح کی کوئی صورت نہ نکلتی تھی۔