انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxiv of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page xxiv

انوار العلوم جلد ۱۰ ۱۵ تعارف کتب لے لیا جائے اور ہر سال خاص انتظام کے ماتحت سارے ہندوستان میں ایک ہی دن ان پر روشنی ڈالی جائے۔ حضور نے تحریک فرمائی کہ اس سلسلہ میں ۷ اجون ۱۹۲۸ء کو ملک بھر میں جلسے منعقد کرکے اس نیک اور مقدس کام کی ابتداء کی جائے۔ چنانچہ سارے ہندوستان میں اور بعض بیرونی ممالک میں بھی سیرۃ النبی کے جلسے کئے گئے اور مسلمان اور غیر مسلم دونوں نے نبی کریم ا کی سیرت طیبہ پر کمال حسن و خوبی سے تقاریر کیں اور خدمتِ انسانیت کے بارہ میں حضور کے زریں کارنامے بیان کئے۔ اس دن قادیان میں بھی ایک بہت بڑا جلسہ منعقد ہوا۔ اس جلسہ کے آخری اجلاس میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے تقریر فرمائی جو تین گھنٹہ تک جاری رہی۔ یہی تقریر بعد ازاں بعنوان "دنیا کا محسن" کتابی صورت میں شائع ہوئی۔ اس یر معارف تقریر میں حضور نے آنحضرت ا کی پاکیزہ سیرت بنی نوع انسان پر آپ کے عظیم احسانات اور بے نظیر قربانیوں کا نہایت مدلل اور اچھوتے انداز میں تفصیلاً ذکر فرمایا ہے۔ نیزان اعتراضات کا جو نبی کریم ا کی مقدس زندگی پر مخالفین کی طرف سے کئے جاتے ہیں محکم دلائل اور تاریخی واقعات کی بناء پر رد فرمایا ہے۔ آپ نے حضرت رسول کریم ا کے تقدس، احسانات اور قربانیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالنے کے بعد فرمایا:- یہ وہ وجود ہے جسے آج دنیا برا بھلا کہتی ہے اور جس کے روشن وجود کو چھپانے کی کوشش کرتی ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ تمام مذاہب کے سنجیدہ اور شریف آدمی آنحضرت اللہ کے احسانات اور قربانیوں اور پاکبازیوں کا علم حاصل کرکے آپ کا ادب کرنا سیکھیں گے اور آپ کو بنی نوع انسان کا محسن سمجھ کر آپ کو اپنا ہی سمجھیں گے جس طرح کہ وہ اپنے قومی نبیوں کو سمجھتے ہیں۔ اور مسلمان آپ کی زندگی کے حالات معلوم کرکے آپ کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کریں گے اور اس عظیم الشان نعمت کی جو خدا تعالیٰ نے انہیں دی ہے ناشکری نہیں کریں گے۔“