انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 192

انوار العلوم جلد 10 ۱۹۲ حضرت مسیح موعود کے کارنامے سے اس جہاد کو شروع کر دیا ہے اور تمام دنیا میں تبلیغ جاری کر دی ہے۔ اب بھی اگر مسلمان اس جہاد کو شروع کر دیں تو کامیاب ہو جائیں گے۔ اگر مسلمان سمجھیں تو آپ کا یہ فعل ایک زبردست خدمت اسلامی ہے اور اس کے ذریعہ سے آپ نے نہ صرف آئندہ کے لئے مسلمانوں کو بیدار کر دیا ہے اور ان کے لئے ترقی کا راستہ کھول دیا ہے بلکہ مسلمانوں کو ایک بہت بڑے گناہ سے بھی بچا لیا ہے کیونکہ گو مسلمان یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ زمانہ تلوار کے جہاد کا ہے لیکن اسے فرض سمجھ کر بھی اس پر عمل نہیں کرتے تھے۔ اور اس طرح اس احساس گناہ کی وجہ سے گناہگار بن رہے تھے۔ اب آپ کی تشریح کو جوں جوں مسلمان تسلیم کرتے جائیں گے ان کے دلوں پر سے احساس گناہ کا زنگ اترتا جائے گا۔ اور وہ محسوس کریں گے کہ وہ خدا اور اس کے رسول سے غداری نہیں کر رہے تھے۔ صرف نقص یہ تھا کہ صحیح جہاد کا انہیں علم نہ تھا۔ مشابہ (۳) تیسرا کام اسلام کی ترقی کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ کیا ہے کہ آپ نے جدید علم کلام پیدا کیا ہے۔ آپ کی بعثت سے پہلے مذاہب مذاہب کی کی ؟ جنگ گوریلا دار سے تھی۔ ہر اک شخص اٹھ کر کسی ایک بات کو لیکر اعتراض شروع کر دیتا اور اپنے خصم کو شرمندہ کرنے کی کوشش کرنے لگتا تھا۔ آپ نے اس نقص کو دور کیا اور اعلان کیا کہ مذاہب کی شان کے خلاف ہے کہ اس قسم کے ہتھیاروں سے کام لیں۔ نہ کسی کا نقص نکالنے سے مذہب کی سچائی ثابت ہو سکتی ہے۔ اور نہ صرف ایک مسئلہ پر بحث کر کے کسی مذہب کی حقیقت ظاہر ہو سکتی ہے۔ مذاہب کی پر کچھ مندرجہ ذیل اصول پر ہونی چاہئے۔ پ (الف) مشاہدہ پر۔ یعنی ہر ندہ اپر۔ یعنی ہر مذہب جس غرض کے لئے کھڑا ہے لئے کھڑا ہے اس کا ثبوت دے۔ یعنی یہ ثابت کرے کہ اس پر چل کر وہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔ جس مقصد کو پورا کرنا اس مذہب کا کام ہے۔ مثلاً اگر خدا کا قرب اس مذہب کی غرض ہے اور ہر مذہب کی یہی غرض ہوتی ہے تو اسے چاہئے کہ ثابت کرے کہ اس مذہب پر چلنے والوں کو خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر وہ یہ ثابت نہیں کر سکتا۔ تو اس کے قیام کی غرض ہی مفقود ہو جاتی ہے اور وہ ایک جسم بے روح ہو جاتا ہے۔ چند اخلاقی یا تمدنی تعلیمیں یا فلسفیانہ اصول کسی مذہب کو سچا ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں ہیں کیونکہ ان باتوں کو تو انسان دوسرے مذاہب سے چرا کر یا خود غور و فکر کر کے بلا اس کے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اسے الہام ہو پیش کر سکتا ہے۔ مذہب کا WAR