انوارالعلوم (جلد 10) — Page 182
انوار العلوم جلد 10 ۱۸۲ حضرت مسیح موعود کے کارنامے تھے۔ آپ نے قرآن کریم سے ایسے گر بتائے کہ اس مسئلہ کو بالکل حل کر دیا اور راستہ کھول دیا جس کا مقابلہ اور کوئی مذہب نہیں کر سکتا۔ مسیحیت نے ورثہ کے گناہ کی تھیوری پیش کر کے کہا تھا کہ چونکہ انسان کو گناہ ورثہ میں ملے ہیں ، اس لئے کوئی انسان ان سے بچ نہیں سکتا۔ گویا اس کے نزدیک اصلاح نفس نا ممکن تھی اور اس ناممکن کو ممکن بنانے کے لئے اس نے کفارہ ایجاد کیا تھا۔ سکتی ہے۔ جب ہندو مذہب کا عقیدہ تھا کہ اصلاح نفس حساب صاف کرنے سے ہو حساب صاف ہو جائے گا تب نجات ہو گی۔ پر میشور انسان کی نیکیوں اور بدیوں کا حساب رکھتا ہے اور ان کا مقابلہ کرتا رہتا ہے۔ اگر بدیاں زیادہ ہوں تو مرنے کے بعد کسی اور جون میں ڈال کر دنیا میں بھیج دیتا ہے۔ اس طرح ہندو مذہب نے اصلاح نفس کو نا ممکن بنا کر انسان کو تناسخ کے چکر میں ڈال دیا تھا۔ یهود اصلاح نفس کے سرے سے ہی منکر تھے۔ کیونکہ ان کے نزدیک نبی بھی گناہگار ہو سکتا تھا اور ہوتا ہے۔ وہ مزے لے لے کر نبیوں کے گناہ گناتے تھے اور اس میں کوئی نقص نہ سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک نجات کی صورت صرف یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اپنا پیارا قرار کر اس سے نجات کو وابستہ کر دے۔ گویا وہ نجات کو ایک تقدیری عمل سمجھتے تھے اور اپنی نجات پر اس لئے مطمئن تھے کہ وہ ابراہیم کی اولاد اور موسیٰ کی امت ہیں، نہ اس لئے کہ وہ خدا تعالیٰ کی خوشنودی کو اصلاح نفس کے ذریعہ سے حاصل کر چکے ہیں۔ دے مسلمانوں نے بھی ملائکہ اور انبیاء تک کو گناہ میں ملوث کر کے یہود کی نقل میں اس مقصد کو فوت کر دیا تھا۔ اور یہ بات گھڑ لی تھی کہ رسول اللہ مسلی ہم سب مسلمانوں کی شفاعت کریں گے۔ اور سب بخشے جائیں گے اس سے بھی زیادہ غضب یہ ہو رہا تھا کہ رسول اللہ ملی کے علاوہ اور بہت سے پیرایسے بنا رکھے تھے اور وہ پیرا اور وہ پیران سے کہتے تھے کہ کچھ کرنے دھرنے کی ضرورت نہیں۔ ہم تمہیں خود سیدھے جنت میں پہنچا دیں گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سب خیالات کی غلطی کو ثابت کیا اور نجات کے گر قرآن کریم سے پیش کئے کئے ا اور ایک کامل اور مکمل اصل اصلاح نفس کے لئے جس پر نجات کا مدار ہے پیش کیا۔ آپ نے تسلیم کیا کہ ورثہ میں انسان کو عیب اور گناہ کا میلان ملتا ہے جس طرح نیکی کا میلان ملتا ہے۔ آپ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ نفسانی پاکیزگی کے لئے پچھلے