انوارالعلوم (جلد 10) — Page 178
انوار العلوم جلد ۱۰ ۱۷۸ حضرت مسیح موعود کے کارنامے اٹھا کر دعا کرنی چاہئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے جب اس بات کا ذکر آتا تو آپ ہنستے اور فرماتے۔ ان لوگوں کی تو ایسی ہی مثال ہے جیسے کوئی بادشاہ کے دربار میں جائے مگر وہاں چپ چاپ کھڑا رہ کر واپس آ جائے۔ اور جب دربار سے باہر آجائے تو کہے حضور مجھے یہ کچھ دلایا جائے وہ کچھ دلایا جائے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ دعا نماز میں کرنی چاہئے اور اپنی زبان میں بھی کرنی چاہئے تاکہ جوش پیدا ہو ۔ (۳) بعض لوگوں کا یہ خیال تھا کہ ظاہری عبادت کافی ہے۔ ہاتھ میں تسبیح پکڑلی اور بیٹھ گئے۔ ان لوگوں کی حالت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ میں نے ایک کتاب دیکھی ہے جس میں لکھا تھا۔ اگر کوئی فلاں دعا پڑھ لے تو سارے صلحاء کی نیکیاں اسے مل جائیں گی۔ اور سب گناہگاروں کے برابر گناہ اگر اس گناہ اگر اس نے کئے ہوں تو وہ بخشے جائیں گے۔ جن لوگوں کا یہ خیال ہو انہیں روزانہ نمازیں پڑھنے کی کیا ضرورت محسوس ہو سکتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا :۔ یہ جسم تو گھوڑا ہے اور روح اس پر سوار ہے۔ تم نے گھوڑے کو پکڑ لیا اور سوار کو چھوڑ دیا۔ ظاہری عبادتیں تو روحانی پاکیزگی کا ذریعہ ہیں اس لئے قلبی پاکیزگی پیدا کرو جو اصل مقصود ہے۔ دسواں کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ کیا کہ فقہ کی اصلاح فقہ کی اصلاح کی جس میں سخت خرابیاں پیدا ہو گئی تھیں اور اس قدر اختلاف ہو رہا تھا کہ حد نہ رہی تھی آپ نے اس کے متعلق زریں اصول باندھا اور فرمایا شریعت کی بنیاد مندرجہ ذیل چیزوں پر ہے۔ (۱) قرآن کریم (۲) سنت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم (۳) احادیث جو قرآن کریم اور سنت اور عقل کے خلاف نہ ہوں (۴) تَفَقَهُ فِی الدِّين (۵) اختلاف طبائع و حالات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ ایک عظیم الشان کارنامہ ہے کہ آپ نے سنت اور حدیث کو الگ الگ کیا۔ آپ نے فرمایا ۔ سنت تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا وہ عمل ہے جس پر آپ قائم ہوئے اور دوسروں کو اس کی ترغیب دی۔ اور حدیث وہ قول ہے جو آپ نے بیان کیا۔ اب دیکھو ان پانچ اصول سے آپ نے کیسی اصلاح کر دی ہے۔ سب سے اول درجہ پر آپ نے قرآن کریم کو رکھا کہ وہ خدا کا کلام ہے مفصل ہے مکمل ہے اس میں نہ کوئی تبدیلی ہو