انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxii of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page xxii

انوار العلوم جلد 10 اور اسے اپنے ۲ جون ۱۹۲۸ء کے پرچہ میں شائع کیا۔ (۸) عورتوں کو غلامی سے نجات دلانے والا نبی تعارف کتب رسول کریم ملی علم کی پاک سیرت اور ارفع شان کے اظہار کیلئے ادارہ ”الفضل نے ۱۳ جون ۱۹۲۸ء کو نہایت شاندار اور ضخیم " خَاتَمَ النَّبِيِّن نمبر شائع کیا۔ یہ نمبر ممتاز علماء سلسلہ مشهور غیر از جماعت زعماء اور غیر مسلم اصحاب کے بلند پایہ مضامین پر مشتمل تھا۔ ادارہ الفضل کی خواہش پر اس نمبر کیلئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے یہ مضمون رقم فرمایا۔ اس میں حضور نے نبی کریم ﷺ کے اُس احسان عظیم کا ذکر فرمایا ہے جو آپ نے مظلوم طبقہ نسواں کی آزادی اور نجات کے سلسلہ میں سرانجام دیا۔ مضمون کے شروع میں حضور تحریر فرماتے ہیں:- وو رسول کریم ﷺ کی آمد سے پہلے عورتیں ہر ملک میں غلام اور مملوک کی طرح تھیں۔ اور ان کی غلامی مردوں پر بھی اثر ڈالے بغیر نہیں رہ سکتی تھی کیونکہ لونڈیوں کے بچے آزادی کی روح کو کامل طور پر جذب نہیں کر سکتے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیشہ سے عورت اپنی خوبصورتی یا خوبصیرتی کے زور سے بعض مردوں پر حکومت کرتی چلی آئی ہے لیکن یہ آزادی حقیقی نہ تھی کیونکہ یہ بطور حق کے حاصل نہ تھی بلکہ بطور استثناء کے تھی اور ایسی استثنائی آزادی کبھی صحیح جذبات پیدا کرنے کا موجب نہیں ہو سکتی۔ رسول کریم ال کی بعثت آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے ہوئی ہے۔ اُس وقت تک کسی مذہب اور قوم میں عورت کو ایسی آزادی حاصل نہ تھی کہ اُسے بطور حق کے وہ استعمال کر سکے ۔ “ اس کے بعد حضور نے عورت کی محرومیوں کا تفصیل سے ذکر فرمایا کہ نہ وہ جائیداد کی مالک ہو سکتی تھی نہ ترکہ سے اُسے کوئی و جور کے باوجود اسے علیحدگی کا حق حاصل نہیں تھا لیکن مرد جب چاہے بغیر کسی قسم کے حقوق کی ادائیگی کے اُسے الگ کر دیتا تھا۔ خاوند کی وفات پر وہ اس کے رشتہ داروں کی ملکیت سمجھی جاتی تھی وہ جس سے چاہتے اس کی شادی کر دیتے یا دوسروں کے ہاتھ فروخت کردیتے۔ بے شمار ظلم تھے جو اس ९९ حصہ ملتا تھا۔ خاوند کے ظلم