انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 168

انوار العلوم جلد ۱۰ حضرت مسیح موعود کے کارنامے وہ شیطانی تھی اور خود مسیحیوں میں سے بعض نے آئندہ ایسا کرنا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے ان کی براءت کے لئے فرمایا کہ ان کی پیدائش روح اللہ سے تھی ، کسی گناہ کا نتیجہ نہ تھی۔ اور کسی ایسے فعل کا نتیجہ نہ تھی جو خدا کی شریعت کے خلاف ہو بلکہ کلمہ اللہ کے مطابق تھی۔ پس روح اللہ اور کلمۃ اللہ کے الفاظ سے مسیح کی پیدائش کا ذکر کرنا تعظیماً نہیں بلکہ اس کی براءت کیلئے ہے۔ آپ نے یہ بھی بتایا کہ کوئی وجہ نہیں کہ ہم مسیح کی پیدائش کو قانون قدرت سے بالا سمجھیں۔ ایسی پیدائش اور انسانوں میں بھی ہو سکتی ہے اور حیوانوں میں تو یقیناً ہوتی ہے۔ باقی رہا یہ سوال کہ کیوں خدا تعالیٰ نے انہیں بلا باپ پیدا کیا؟ باپ سے ہی کیوں نہ ؟ ہوں نہ پیدا کیا۔ تو اس کا جواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ دیا کہ ابراہیم علیہ السلام کی پیشگوئیوں کے مطابق بنی اسرائیل میں سے متواتر انبیاء آ رہے تھے ۔ جب ان کی شرارت حد سے بڑھ گئی تو اللہ تعالٰی نے مسیح کی پیدائش کے ذریعہ سے انہیں آخری بار تنبیہہ کی اور بتایا کہ اب تک ہم معاف کر کے تمہارے اندر سے نبی بھیجتے رہے ہیں۔ مگر اب ہم ایک انسان کو بھیجتے ہیں جو ماں کی طرف سے بنی اسرائیل ہے اور باپ کی طرف سے نہیں۔ اگر آئندہ بھی باز نہ آؤ گے۔ تو ایسا ہی آئے گا جو ماں باپ دونوں کی طرف سے غیر اسرائیلی ہو گا۔ چنانچہ جب بنی اسرائیل نے اس تنبیہہ سے بھی فائدہ نہ اٹھایا اور شرارت میں بڑھتے گئے تو اللہ تعالی نے رسول کریم میں ہم کو مبعوث فرمایا جو کلی طور پر بنی اسرائیل سے جدا تھے۔ پس حضرت مسیح کی بے باپ پیدائش بطور رحمت کے نہیں بلکہ بنی اسرائیل کے لئے بطور انذار تھی۔ چنانچہ اس کا انجام یہی ہوا۔ دوسری غلطی مسیح ناصری علیہ السلام کے متعلق یہ لگی ہوئی تھی کہ مسلمان خیال کرتے تھے کہ صرف حضرت مسیح اور ان کی ماں میں شیطان سے پاک تھیں۔ اور کوئی انسان ایسا نہیں ہوا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے متعلق بتایا کہ کل انبیاء بلکہ مؤمن بھی میں شیطان سے پاک ہوتے ہیں۔ چنانچہ مؤمنوں کو حکم ہے کہ جب وہ بیوی کے پاس جائیں تو یہ دعا پڑھا کریں ۔ اَللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنَّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا - ٢٦ اے اللہ ! مجھے بھی شیطان سے بچا اور میری اولاد کو بھی بچا۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ جو بچہ پیدا ہو گا اسے شیطان میں نہ کرے گا۔ یہ گر رسول کریم میں ہم نے مس شیطان سے اولاد کو