انوارالعلوم (جلد 10) — Page 134
حضرت مسیح موعود کے کارنامے ۱۳ انوار العلوم جلد ۱۰ نہیں سکتی تو بہترین طریق اور صحیح طریق یہی ہو گا کہ اسے مادی قواعد سے حل کرنے کی بجائے صفات الہیہ سے حل کیا جائے تاکہ غلطی کے امکان سے حفاظت حاصل ہو جائے اور یہی طریق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اختیار کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وقت کا غلط مفہوم جو اس وقت تک دنیا میں قائم ہے وہ بھی اس مسئلہ کے سمجھنے میں روک ہے اور کچھ بھی تعجب نہیں کہ آئنسٹائن مال کی تھیوری (فلسفہ نسبت) ترقی پاتے پاتے اس مسئلہ کو زیادہ قابل فہم بنا دے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و اسلام جو یہ تحریر فرماتے ہیں کہ دور وحدت مقدم ہے اور یہ اوپر کے بیان کے مخالف نہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود " آئندہ کیلئے بھی دور وحدت کی خبر دیتے ہیں۔ مگر باوجود اس کے آپ ارواح کے لئے غیر مجذوذ انعام تسلیم فرماتے ہیں۔ اور آریوں کے اس عقیدہ کو رد فرماتے ہیں کہ اربوں سال کے بعد ارواح پھر مکتی خانہ سے نکال دی جائیں گی۔ پس معلوم ہوا کہ آپ کے نزدیک آئندہ کسی اور وحدت کا آنا اور اس کے ساتھ ارواح کا فنا سے محفوظ رہنا دور وحدت کے خلاف نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ دور وحدت کا اصل مفہوم لوگوں نے نہیں سمجھا۔ مرنے کے بعد کی حالت دور وحدت ہی ہے کیونکہ اس وقت اپنا عمل نہیں ہوتا بلکہ انسان خدا کے تصرف کے ماتحت چلتا ہے۔ اس کا اپنا کوئی ارادہ نہیں ہوتا۔ مرنے کے بعد انسان مشین کی طرح ہوتا ہے۔ دار العمل (یعنی بالا رادہ عمل) اس دنیا میں ختم ہو جاتا ہے اور یہی حالت مخلوق کی نسبت سے دورِ وحدت کے منافی ہے۔ (۶) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت سے پہلے اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق ایک اور بحث بھی پیدا ہو رہی تھی اور وہ یہ کہ اس کی قدرت کے مفہوم کو غلط سمجھا جا رہا تھا۔ بعض لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ خدا قادر ہے اس لئے وہ جھوٹ بھی بول سکتا ہے یا فنا بھی ہو سکتا ہے۔ بعض کہتے کہ نہیں اس کی صفات اسی قدر ہیں جو اس نے بیان کی ہیں اور وہ جھوٹ نہیں بول سکتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس جھگڑا کا بھی فیصلہ کر دیا۔ اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے قدیر ہونے کی صفت کو اس کی دوسری صفات کے مقابلہ پر رکھو اور پھر اس کے متعلق غور کرو۔ جہاں یہ نظر آتا ہے کہ خدا قدیر ہے وہاں یہ بھی تو ہے کہ خدا کامل ہے اور فنا کمال کے خلاف ہے۔ دیکھو اگر کوئی کہے کہ میں بڑا پہلوان ہوں، بڑا طاقتور ہوں تو کیا اسے یہ کہا جائے گا کہ XXXXXXX XXXXYYYYYYYYYXXXXXXXXXXXXXXXXXXXX