انوارالعلوم (جلد 10) — Page 130
انوار العلوم جلد ۔) ١٣٠ حضرت مسیح موعود کے کارنامے ہوں۔ جو دوسری غلطیاں ہیں ان سب کی اصلاح حضرت مسیح موعود نے اوپر کے بیان کئے ہوئے اصل کے ماتحت کی ہے۔ چنانچہ دوسری غلطی اللہ تعالیٰ کے متعلق مختلف مذاہب کے پیروؤں میں یہ پیدا ہو رہی تھی کہ وہ اسے عِلتُ العِلل قرار دیتے تھے۔ یعنی اس کی قوت ارادی کے منکر تھے۔ اس غلطی کا ازالہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی صفت حکیم اور قدیر سے کیا ہے۔ تمام مذاہب خدا تعالیٰ کے حکیم اور قدیر ہونے کے قائل ہیں۔ اور یہ ظاہر ہے کہ اگر وہ حکیم اور قدیر ہے تو عِلتُ الْعِلَل نہیں ہو سکتا بلکہ بالا رادہ خالق ہے۔ کسی مشین کو کوئی عقلمند کبھی حکیم نہ کہے گا۔ پس اگر خدا حکیم ہے تو علت العلل نہیں ہو سکتا۔ کوئی درزی یہ نہیں کہے گا کہ میری سنگر کی مشین بڑی لائق ہے یا بڑی حکیم ہے۔ حکمت والا اس چیز کو کہا جاتا ہے جو ارادہ کے ماتحت کام کرتی ہے۔ پھر خدا تعالیٰ قادر ہے۔ اور عربی میں قادر کے معنی اندازہ کرنے والے کے ہیں۔ یعنی جو ہر اک کام کا اندازہ کرتا ہو اور دیکھتا ہو کہ کس چیز کے مناسب حال کیا طاقتیں یا کیا سامان ہیں۔ مثلاً یہ فیصلہ کرے کہ گرمی کے لئے کیا قوانین ہوں اور سردی کے لئے کیا۔ کس کس حیوان کی کس کس قدر عمر ہو۔ اور یہ اندازہ کوئی بلا ارادہ ہستی نہیں کر سکتی۔ پس خدا تعالی کی قدیر اور حکیم صفات اس کے ارادہ کو ثابت کر رہی ہیں اور اسے قدیر اور حکیم مانتے ہوئے عِلتُ الْعِلَل نہیں کہا جا سکتا۔ (۳) تیسری قسم کے وہ لوگ تھے جو یہ کہتے تھے کہ دنیا آپ ہی آپ بنی ہے خدا کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ یعنی خدا روح اور مادہ کا کا خالق نہیں ہے۔ اس کا جواب آپ نے خدا کی صفت مالکیت اور رحیمیت سے دیا اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی دو بڑی صفات مالکیت اور رحیمیت ہیں۔ اب اگر خدا نے دنیا کو پیدا نہیں کیا تو پھر اس پر تصرف جمانے کا بھی اسے کوئی حق نہیں ہے۔ یہ حق اسے کہاں سے حاصل ہو گیا؟ پس جب تک خدا تعالیٰ کو دنیا کا خالق نہ مانو گے دنیا کا مالک بھی نہیں مان سکتے ۔ دوسری صفت خدا تعالیٰ کی رحیمیت ہے۔ رحیم کے معنی ہیں وہ ہستی جو انسان کے کام کا بہتر سے بہتر بدلہ دے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر خدا کسی چیز کا خالق نہیں تو وہ بدلے اس کے پاس کہاں سے آئیں گے ۔ جو لوگوں کو اپنی اس صفت کے ماتحت دے گا۔ ہمارے ملک میں ایک مثل مشہور ہے کہ "حلوائی کی دکان پر دادا جی کی فاتحہ "۔ کہتے ہیں کسی شخص نے اپنے دادا