انوارالعلوم (جلد 10) — Page 104
انوار العلوم جلد 10 ۱۰۴ تقریر دلپذیر خود بھی اپنے اتنے خیر خواہ نہیں ہیں۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لئے ہماری جماعت کے لوگوں کو چاہئے کہ جہاں ان پر سختی ہو وہاں بھی صبر سے کام لیں اگر کوئی گالیاں دے تو اس کے جواب میں گالی نہ دیں بلکہ یہ کہیں کہ ہم اس کے لئے تیار نہیں ہاں مسائل پر اگر چاہو تو گفتگو کر لو۔ کوشش یہ ہونی چاہئے کہ کہیں فتنہ و فساد نہ پیدا ہو بلکہ معمولی رنجش اور کبیدگی بھی پیدا نہ ہو کیونکہ لڑائی جھگڑے سے تبلیغ کو فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ نقصان ہوتا ہے۔ ہاں دوسروں کی جس قدر ہمدردی کرو گے اور ان سے نرمی کے ساتھ پیش آؤ گے اسی قدر زیادہ ترقی ہو گی اس کا یہ مطلب نہیں کہ تبلیغ احمدیت چھوڑ دی جائے اسی پر تو ہماری زندگی کا مدار ہے اسے ہم کسی صورت میں بھی چھوڑ نہیں سکتے یہ ہونی چاہئے اور بار بار ہونی چاہئے مگر یہ احتیاط ہونی چاہئے کہ صلح و آشتی سے ہمدردی اور محبت سے ہو کسی قسم کی سخت کلامی یا لڑائی جھگڑا نہ ہونا چاہئے۔ اب ایک اور ضروری بات کے متعلق میں کچھ کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ ہندوستان میں سائمن کمیشن آرہا ہے اس کے متعلق میں ایک مفصل ٹریکٹ شائع کر چکا ہوں جس کا سب سے ضروری حصہ وہ ہے جہاں یہ بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کو اس کمیشن کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہی موقع ہے کہ مسلمانوں کو کچھ حقوق مل سکیں۔ ہندوؤں نے انگریزوں کے کافی طور پر کان بھرے ہوئے ہیں اگر وہ کمیشن کا بائیکاٹ کر دیں تو ان کا کچھ نقصان نہ ہو گا مگر مسلمان بائیکاٹ کرنے پر سخت گھاٹے میں رہیں گے۔ تمام دوست اپنی اپنی جگہ کوشش کریں اور بائیکاٹ کے نقصانات مسلمانوں کو سمجھائیں اور اس قسم کی کمیٹیاں بنائیں جن کا ذکر اس مضمون میں ہے۔ احباب اپنے پروگرام میں ایک بات یہ بھی داخل کر لیں کہ سن رائز کی اشاعت بڑھائی جائے۔ جب تک اس کے دس ہزار خریدار نہ ہو جائیں اس کا کام نہیں چل سکتا۔ اس وقت ایڈیٹر صاحب مفت کام کر رہے ہیں جو دوسرے فرائض کی وجہ سے راتوں کو بیٹھ کر مضمون لکھتے ہیں دوست کوشش کریں کہ اس کی اشاعت میں ترقی ہو اور دوسرے مسلمانوں کو خریدار بنایا جائے۔ چونکہ اس میں عام مسلمانوں کے فائدہ کے مضامین ہوتے ہیں اس لئے اسے بآسانی خریدنے کے لئے تیار ہو سکتے ہیں۔ اس سال ایک اور ضروری تحریک میں نے کی تھی اسے جاری رکھنا چاہئے وہ یہ ہے کہ ہر شخص اپنے ہاتھ میں سونٹایا تلوار رکھے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ عام طور پر احمدیوں نے اس پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ بعض غیر احمدیوں نے مجھے لکھا ہے کہ یہ تحریک تو آپ