انوارالعلوم (جلد 10) — Page 75
انوار العلوم جلد 10 ۷۵ تقریر دلپذیر تھی۔ وہ مضمون اس وجہ سے لکھا گیا تھا کہ اس فیصلہ کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہتک کرنے والے ہر ایک شخص کو چھوڑا جا سکتا ہے اور مسلمانوں کے لئے امن کی کوئی صورت نہیں۔ اس وقت کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہائی کورٹ کو دیکھنا چاہئے تھا کہ وہ مضمون کیسی حالت میں لکھا گیا اور آیا اس میں ہائی کورٹ کی ہتک مقصود ہے یا اپنے ٹھیس لگے ہوئے جذبات کا اظہار ہے۔ پس گو میں تسلیم کرتا ہوں کہ اس مضمون کا لہجہ ایسا نہ تھا جیسا کہ ہونا چاہئے تھا مگر جس بناء پر مقدمہ چلایا گیا وہ تھی۔ چونکہ اس مضمون کی وجہ سے مسلم آوٹ لک کے پروپرائیٹر اور ایڈیٹر کو سزا دے دی گئی اس لئے مجھے مسلمانوں کو اس طرف توجہ دلانی پڑی کہ جو کوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہتک کے خلاف آواز اٹھائے وہ تو فوراً جیل خانہ بھیجا جا سکتا ہے اور ہتک کرنے والا ہر قسم کی سزا سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ وہ درست نه ومسلم آوٹ لک" کے مضمون میں ! میں اس امر پر اظہار ناراض اظهار ناراضگی کیا گیا تھا کہ قابل حج کے نزدیک رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالیاں دینا اور بات ہے اور قوم میں نفرت پیدا کرنا اور امر ہے۔ گویا حج نے یہ قرار دیا تھا کہ اگر کسی کے باپ کو گالی دی جائے تو اس سے اس شخص کو جوش پیدا ہو سکتا ہے لیکن اگر اس کے رسول کو گالی دی جائے تو پھر جوش نہیں پیدا ہو سکتا۔ ہم ایک ہندوستانی حج ۔ سے جو مسلمانوں کے مذہبی جذبات اور احساسات سے واقفیت واقفیت را رکھتا تھا اور جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق مسلمانوں کے اخلاص اور محبت سے آگاہ تھا اس قسم کے فیصلہ کی توقع نہ رکھتے تھے مگر عجیب بات ہے کہ وہ ہندوستانی ہو کر ہندوستان میں رہ کر ہندوستانی مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے واقف ہو کر یہ خیال کرتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو گالیاں دی جائیں تو اس سے مسلمانوں میں نفرت اور حقارت کے جذبات نہیں پیدا ہو سکتے اور نہ جائز طور پر فساد پیدا ہو سکتا ہے لیکن اگر خود ان کو گالیاں دی جائیں تو پھر جائز طور پر فساد ہو سکتا ہے۔ یہ اس حج کی ناواقفیت تھی جس پر مسلم آوٹ لک نے جرح کی تھی نہ کہ ہائی کورٹ پر حملہ کیا تھا۔ میرے نزدیک ہائی کورٹ پر حملہ کرنا سخت نا جائز ہے اور اگر ایسا کیا جاتا تو میں کبھی تائید نہ کرتا لیکن یہ بات ہی نہ تھی۔ ایک حج کی بطور حج ہتک نہ کی گئی تھی بلکہ اس بات کے خلاف آواز اٹھائی گئی تھی کہ ایک ایسا شخص جو مسلمانوں میں رہتا، مسلمانوں کے مذہبی عقائد سے واقفیت رکھتا، ان کے مذہبی جذبات اور احساسات کو سمجھتا تھا اس نے یہ فیصلہ کیونکر کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہتک سے مسلمانوں میں جائز طور پر جوش نہیں پیدا ہو سکتا۔