انوارالعلوم (جلد 10) — Page 59
انوار العلوم جلد 10 ۵۹ افتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۳۷ء بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۲۷ء ( فرموده مورخه ۲۶ دسمبر ۱۹۲۷ء) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔ تمام احباب اس امر سے آگاہ ہیں کہ ہمارا اس جگہ جمع ہونا صرف اور صرف اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنے کے لئے اور اس کے دین کی اشاعت کے لئے اور اس کے کلمہ کے اعلاء کے لئے اور اسکے بھیجے ہوئے اسلام کے غلبہ کے لئے ہے۔ یہ مقام نہ کوئی سیر و تفریح کا مقام ہے نہ اس جگہ جمع ہونا ہماری تمدنی یا سیاسی ضروریات کو پورا کرنے کا موجب ہوتا ہے۔ یہ جگہ ریل سے اور مرکزی مقاموں سے دور ہے خواہ وہ علمی لحاظ سے ہوں یا سیاسی لحاظ سے یا تمدنی لحاظ سے۔ غرض یہ ایک بہتی ہے جو دنیوی ساز و سامان کے لحاظ سے اپنے اندر کسی قسم کی کشش نہیں رکھتی اس لئے آپ لوگ اگر جمع ہوئے ہیں تو صرف اس لئے کہ یہاں اسے سے خدا خدا تعالیٰ تعالیٰ کے ایک بندہ کی آواز اُٹھی، اللہ تعالی نے اسلام کے احیاء اور اس کو تقویت دینے کے لئے اپنے ایک بندہ کو کھڑا کیا۔ ایک کمزور بچہ آکر ایک بلند مینار پر کھڑا ہو کر شہر کے قومی جوانوں اور مضبوط و طاقتور پہلوانوں کو للکارے اور کہے کہ میں سب کو پچھاڑنے کے لئے تیار ہوں تو بے شک یہ بات ہنسی کے قابل ہو گی مگر اس انسان کی بات اس سے بھی زیادہ ہنسی کے قابل ہو گی جس کے اپنے بھی دشمن اور پرائے بھی، جس کے رشتہ دار بھی اس سے علیحدہ ہو چکے ہوں ہو چکے ہوں اور جسے ارد گرد کے گاؤں کے لوگ بھی نہ جانتے ہوں، حتی کہ اس کے اپنے قصبہ کے رہنے والے لوگ بھی اس سے واقف نہ ہوں مگر وہ یہ کہے کہ میں دنیا کی اصلاح کے لئے کھڑا کیا گیا ہوں اور میں لوگوں کو ہدایت دینے میں کامیاب ہو جاؤں گا۔ اس کی بات پر اس کے رشتہ داروں نے نفرت کی ہنسی ہنسی، اس کے گاؤں ہوں