آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 428
آنحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 428 باب و هم ہو چکا ہے ) اس کا ہم رنگ اور ہم شکل ہے ذرا اُسی کو اصول ہیئت سے مطابق کر کے دکھلائیے اور نیز یہ بھی یادر ہے کہ یہ قول الہامی نہیں بلکہ انسان کی طرف سے الجھیل میں ملایا گیا ہے تو پھر آپ لوگ ان انجیلوں کو جو آپ کے ہاتھ میں ہیں تمام بیانات کے اعتبار سے الہامی کیوں کہتے ہو؟ صاف طور پر کیوں مشتہر نہیں کر دیتے کہ بجز چندان باتوں کے جو حضرت مسیح کے منہ سے نکلی ہیں باقی جو کھانا جیل میں لکھا ہے وہ مؤلفین نے صرف اپنے خیال اور اپنی عقل اور فہم کے مطابق لکھا ہے، جوغلطیوں سے مبرا متصور نہیں ہوسکتا۔جیسا کہ پادری صاحبوں کی عام تحریروں سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ رائے عام طور پر مشتہر بھی کی گئی ہے یعنی بالا تفاق انجیلوں کے بارے میں یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ جو کچھ تاریخی طور پر معجزات وغیرہ کا ذکر ان میں پایا جاتا ہے وہ کوئی الہامی امر نہیں بلکہ انجیل نویسوں نے اپنے قیاس یا سماعت وغیرہ وسائل خارجیہ سے لکھ دیا ہے۔غرض پادری صاحبوں نے اس اقرار سے ان بہت سے حملوں سے جو انجیلوں پر ہوتے ہیں اپنا پیچھا چھڑانا چاہا ہے اور ہر ایک انجیل میں تقریباً دس حصے انسان کا کلام اور ایک حصہ خدائے تعالیٰ کا کلام مان لیا ہے اور ان اقرارات کی وجہ سے جو جو نقصان انہیں اُٹھانے پڑے۔ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ عیسوی معجزات ان کے ہاتھ سے گئے اور ان کا کوئی شافی کافی ثبوت ان کے پاس نہ رہا کیونکہ ہر چند انجیل نویسوں نے تاریخی طور پر فقط اپنی طرف سے مسیح کے معجزات انجیلوں میں لکھے ہیں مگر مسیح کا اپنا خالص بیان جو الہامی کہلاتا ہے حواریوں کے بیان سے صریح مبائن ومخالف معلوم ہوتا ہے بلکہ اُسی کی ضد اور نقیض ہے۔وہ یہ کہ مسیح نے اپنے بیان میں جس کو الہامی کہا جاتا ہے جابجا معجزات کے کھلانے سے انکا رہی کیا ہے اور معجزات کے مانگنے والوں کو صاف جواب دے دیا ہے کہ تمہیں کوئی معجزہ دکھلایا نہیں جائے گا۔چنانچہ ہیرودیس نے بھی مسیح سے مجز ومانگا تو اُس نے نہ دکھلایا اور بہت سے لوگوں نے اس کے نشان دیکھنے چاہے اور نشانوں کے بارے میں اس سے سوال بھی کیا مگر وہ صاف منکر ہو گیا اور کوئی نشان دکھلا نہ سکا بلکہ اس نے تمام رات جاگ کر خدا تعالیٰ سے یہ نشان مانگا کہ وہ یہودیوں کے ہاتھ سے محفوظ رہے تو یہ نشان بھی اس کو نہ ملا اور دعارڈ کی گئی۔پھر مصلوب ہونے کے بعد یہودیوں نے سچے دل سے کہا کہ