امن کے شہزادہ کا آخری پیغام — Page 18
امن کے شہزادہ کا آخری پیغام خیالات میں تو ارد پس کیا یہ تو ارد تعجب انگیز نہیں ہے کہ ان دونوں قوموں نے اپنے اپنے بیان میں ایک ہی خیال پر قدم مارا ہے اسی طرح دنیا میں اور بھی کئی فرقے ہیں جو اسی خیال کے پابند ہیں جیسے پارسی جو اپنے مذہب کی بنیاد وید سے کئی ارب سال پہلے بتلاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خیال ( کہ ہمیشہ کے لئے اپنے ملک اور اپنے خاندان اور اپنی کتابوں کی زبان کو ہی خدا کی وحی اور الہام سے مخصوص کیا گیا ہے ) محض تعصب اور کمی معلومات سے پیدا ہوا ہے ۔ چونکہ پہلے زمانے دُنیا پر ایسے گزرے ہیں کہ ایک قوم دوسری قوم کے حالات سے اور ایک ملک دوسرے ممالک کے وجود سے بکلی بے خبر تھا پس ایسی غلطی سے ہر ایک قوم کو جو خدا کی طرف سے کوئی کتاب ملی یا کوئی خدا کا رسول اور نبی اس قوم میں آیا تو اس قوم نے یہی خیال کر لیا کہ جو کچھ خدا کی طرف سے ہدایت ہونی چاہئے تھی وہ یہی ہے اور خدا کی کتاب صرف انہی کے خاندان اور انہی کے ملک کو دی گئی ہے اور باقی تمام دنیا اس سے بے 18