اللہ تعالیٰ — Page 75
۷۵ اللہ تعالیٰ جل شانہ و عزاسمہ انجام پذیر نہیں ہو سکتا ۔ مثلاً ایک روٹی کو دیکھئے جس پر زندگانی کا مدار ہے۔ اس کے طیار ہونے کے لئے کس قدر تمدن و تعاون درکار ہے۔ زراعت کے تردد سے لے کر اس وقت تک کہ روٹی پک کر کھانے کے لائق ہو جائے بیسیوں پیشہ وروں کی اعانت کی ضرورت ہے۔ پس اس سے ظاہر ہے کہ عام امور معاشرت میں کس قدر تعاون اور باہمی مدد کی ضرورت ہوگی۔ اسی ضرورت کے انصرام کے لئے حکیم مطلق نے بنی آدم کو مختلف طبیعتوں اور استعدادوں پر پیدا کیا تاہر یک شخص اپنی استعداد اور میل طبع کے موافق کسی کام میں بہ طیب خاطر مصروف ہو کوئی کھیتی کرے۔ کوئی آلات زراعت بناوے کوئی آٹا پیسے کوئی پانی لاوے۔ کوئی روٹی پکاوے کوئی سوت کاتے ۔ کوئی کپڑا بنے ۔ کوئی دوکان کھولے۔کوئی تجارت کا اسباب لاوے۔ کوئی نوکری کرے اور اس طرح پر ایک دوسرے کے معاون بن جائیں۔ اور بعض کو بعض مدد پہنچاتے رہیں ۔ پس جب ایک دوسرے کی معاونت ضروری ہوئی تو ان کا ایک دوسرے سے معاملہ پڑنا بھی ضروری ہو گیا۔ اور جب معاملہ اور معاوضہ میں پڑ گئے اور اس پر غفلت بھی جو استغراق امور دنیا کا خاصہ ہے عائد حال ہو گئی تو اُن کے لئے ایک ایسے قانون عدل کی ضرورت پڑی جو اُن کو ظلم اور تعدی اور بغض اور فساد اور غفلت من اللہ سے روکتا ر ہے تا نظام عالم میں ابتری واقع نہ ہو ۔ کیونکہ معاش و معاد کا تمام مدار انصاف اور خدا شناسی پر ہے۔ اور التزام انصاف و خدا ترسی ایک قانون پر موقوف ہے جس میں دقائق معدلت و حقائق معرفت الہی بدرستی تمام درج ہوں اور سہوا یا عمداً کسی نوع کا ظلم یا کسی نوع کی غلطی نہ پائی جاوے۔ اور ایسا قانون اسی کی طرف سے صادر ہو سکتا ہے جس کی ذات سہو و خطا ظلم و تعدی سے بکلی پاک ہو۔ اور نیز اپنی ذات میں واجب الانقیاد اور واجب التعظیم بھی ہو۔ کیونکہ گوگوئی قانون عمدہ ہو مگر قانون کا جاری کرنے والا اگر ایسا نہ ہو جس کو باعتبار مرتبہ اپنے کے سب پر فوقیت اور حکمرانی کا حق ہو یا اگر ایسا نہ ہو جس کا وجود لوگوں کی نظر میں ہر ایک طور کے ظلم و خبث اور خطا اور غلطی سے پاک ہو تو ایسا قانون اول تو