اللہ تعالیٰ — Page 73
۷۳ اللہ تعالیٰ جل شانہ و عزاسمہ خدا پر حق واجب نہیں ۔ یہ تو صرف اس کا فضل ہے۔ اسے اختیار ہے جس پر چاہے کرے اور جس پر چاہے نہ کرے۔ مثلاً تم کو خدا نے آدمی بنایا اور گدھے کو آدمی نہ بنایا۔ تم کو عقل دی اور اس کو نہ دی یا تمہارے لئے علم حاصل ہوا اور اس کو نہ ہوا۔ یہ سب مالک کی مرضی کی بات ہے کوئی ایسا حق نہیں کہ تمہارا تھا اور اُس کا نہ تھا۔ غرض جس حالت میں خدا کی مخلوقات میں صریح تفاوت مراتب پایا جاتا ہے جس کے تسلیم کرنے سے کسی عاقل کو چارہ نہیں تو کیا مالک با اختیار کے سامنے ایسی مخلوقات جن کا موجود ہونے میں بھی کوئی حق نہیں چہ جائیکہ بڑا بننے میں کوئی حق ہو کچھ دم مار سکتی ہے۔ خدائے تعالیٰ کا بندوں کو خلعتِ وجود بخشنا ایک عطا اور احسان ہے اور ظاہر ہے کہ معطی ومحسن اپنی عطا اور احسان میں کمی بیشی کا اختیار رکھتا ہے اور اگر اس کو کم دینے کا اختیار نہ ہو تو پھر زیادہ دینے کا بھی اختیار نہ ہو۔ تو اس صورت میں وہ مالکانه اختیارات کے نافذ کرنے سے بالکل قاصر رہ جائے اور خود ظاہر ہے کہ اگر مخلوق کا خالق پر خواہ نخواہ کوئی حق قرار دیا جائے تو اس سے تسلسل لازم آتا ہے کیونکہ جس درجہ پر خالق کسی مخلوق کو بنائے گا اسی درجہ پر وہ مخلوق کہہ سکتا ہے کہ میرا حق اس سے زیادہ ہے۔ اور چونکہ خدائے تعالیٰ غیر متناہی مراتب پر بنا سکتا ہے۔ اور اس کی لا انتہا قدرت کے آگے صرف آدمی بنانے پر فضیلت پیدائش ختم نہیں تو اس صورت میں سلسلۂ سوالات مخلوق کبھی ختم نہ ہوگا اور ہر ایک مرتبہ پیدائش پر الی غیر النهایت اس کو اپنے حق کے مطالبہ کا استحقاق حاصل ہوگا اور یہی تسلسل ہے۔ ہاں اگر یہ جستجو ہے کہ اس تفاوت مراتب رکھنے میں حکمت کیا ہے تو سمجھنا چاہئے کہ اس بارہ میں قرآن شریف نے تین حکمتیں بیان فرمائی ہیں ۔ جو عند العقل نہایت بدیہی اور روشن ہیں جن سے کوئی عاقل انکار نہیں کر سکتا۔ اور وہ بہ تفصیل ذیل ہیں ۔ اول یہ کہ تا مهمات دنیا یعنی امور معاشرت با حسن وجہ صورت پذیر ہوں جیسا فرمایا ہے۔ وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ هَذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ أَهُمْ