اللہ تعالیٰ — Page 34
امه له اللہ تعالیٰ جل شانہ و عزاسمہ اور جان اور ہر یک روحانی اور بدنی قوت پر ایسا اکمل اور ابھی احاطہ رکھتی ہو کہ جس پر عقلاً اور خیالا اور وہماً زیادت متصور نہ ہو۔ اور یہ عالم کہ جو ناقص الحقیقت اور مکدر الصورت اور بالكة الذات اور مشتبہ الکیفیت اور ضیق الظرف ہے ان تجلیات عظمی اور انوار اصفی اور عطیات دائمی کی برداشت نہیں کر سکتا اور وہ اَشعَه تَامَّه كَامِلہ دَائِمہ اس میں سما نہیں سکتے ۔ بلکہ اس کے ظہور کے لئے ایک دوسرا عالم درکار ہے جو اسباب معتادہ کی ظلمت سے بگلی پاک اور منزہ اور ذات واحد قہار کی اقتدار کامل اور خالص کا مظہر ہے۔ ہاں اس فیضانِ اخص سے ان کامل انسانوں کو اسی زندگی میں کچھ حظ پہنچتا ہے کہ جو سچائی کی راہ پر کامل طور پر قدم مارتے ہیں۔ اور اپنے نفس کے ارادوں اور خواہشوں سے الگ ہو کر بگی خدا کی طرف جھک جاتے ہیں ۔ کیونکہ مرنے سے پہلے مرتے ہیں اور اگرچہ بظاہر صورت اس عالم میں ہیں لیکن درحقیقت وہ دوسرے عالم میں سکونت رکھتے ہیں ۔ پس چونکہ وہ اپنے دل کو اس دنیا کے اسباب سے منقطع کر لیتے ہیں اور عادات بشریت کو توڑ کر اور بیکبارگی غیر اللہ سے منہ پھیر کر وہ طریق جو خارق عادت ہے اختیار کر لیتے ہیں اس لئے خداوند کریم بھی اُن کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتا ہے اور بطور خارق عادت ان پر اپنے وہ انوار خاصہ ظاہر کرتا ہے کہ جو دوسروں پر بجرموت کے ظاہر نہیں ہو سکتے ۔ غرض بباعث امور متذکرہ بالا وہ اس عالم میں بھی فیضانِ اخص کے نور سے کچھ حصہ پالیتے ہیں ۔ اور یہ فیضان ہر یک فیض سے خاص تر اور خاتمہ تمام فیضانوں کا ہے اور اس کو پانے والا سعادت سعادت عظمی کو پہنچ جاتا ہے اور خوشحالی دائمی کو پالیتا ہے کہ جو تمام خوشیوں کا سرچشمہ ہے اور جو شخص اس سے محروم رہا وہ ہمیشہ کے دوزخ میں پڑا۔ اس فیضان کے رو سے خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں اپنا نام مَالِكِ يَوْمِ الدین بیان فرمایا ہے۔ دین کے لفظ پر الف لام لانے سے یہ غرض ہے کہ تا یہ معنے ظاہر ہوں کہ جزا سے مراد وہ کامل جزا ہے جس کی تفصیل فرقان مجید میں مندرج ہے۔ اور وہ کامل جزا بحر مجتبی مالکیت تامہ کے کہ جو بدم بنیان اسباب کو مستلزم ہے ظہور میں نہیں آ سکتی۔