اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 30 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 30

۳۰ اللہ تعالیٰ جل شانہ و عزاسمہ جواب فرمایا ) رحمن وہ ذات کثیر البرکت اور مصدر خیرات دائمی ہے جس نے آسمان میں برج بنائے ۔ برجوں : جوں میں آفتاب اور چاند کو رکھا جو کہ عامہ مخلوقا جو کہ عامہ مخلوقات کو بغیر تفریق کافر و مومن کے روشنی پہنچاتے ہیں ۔ اُسی رحمن نے تمہارے لئے یعنی تمام بنی آدم کے لئے دن اور رات بنائے جو کہ ایک دوسرے کے بعد دورہ کرتے رہتے ہیں تا جو شخص طالب معرفت ہو وہ ان دقائق حکمت سے فائدہ اٹھاوے اور جہل اور غفلت کے پردہ سے خلاصی پاوے اور جو شخص شکر نعمت کرنے پر مستعد ہو وہ شکر کرے۔ رحمن کے حقیقی پرستار وہ لوگ ہیں کہ جو زمین پر بُردباری سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ اُن سے سخت کلامی سے پیش آئیں تو سلامتی اور رحمت کے لفظوں سے ان کا معاوضہ کرتے ہیں یعنی بجائے سختی کے نرمی اور بجائے گالی کے دعا دیتے ہیں اور تشبہ باخلاق رحمانی کرتے ہیں کیونکہ رحمٰن بھی بغیر تفریق نیک و بد کے اپنے سب بندوں کو سورج اور چاند اور زمین اور دوسری بے شمار نعمتوں سے فائدہ پہنچاتا ہے۔ پس ان آیات میں خدائے تعالیٰ نے اچھی طرح کھول دیا کہ رحمن کا لفظ ان معنوں کر کے خدا پر بولا جاتا ہے کہ اس کی رحمت وسیع عام طور پر ہر ایک بڑے بھلے پر محیط ہو رہی ہے۔ جیسا ایک جگہ اور بھی اسی رحمت عام کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ عذابی أصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ " یعنی میں اپنا عذاب جس کو اعذاب جس کو لائق اس کے دیکھتا ہوں پہنچاتا ہوں اور میری رحمت نے ہر یک چیز کو گھیر رکھا ہے اور پھر ایک اور موقع پر فرمایا قُلْ مَنْ يَكْلَؤُكُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ مِنَ الرَّحْمَنِ ا یعنی ان کافروں اور نافرمانوں کو کہہ کہ اگر خدا میں صفت رحمانیت کی نہ ہوتی تو ممکن نہ تھا کہ تم اس کے عذاب سے محفوظ رہ سکتے ۔ یعنی اسی کی رحمانیت کا اثر ہے کہ وہ کافروں اور بے ایمانوں کو مہلت دیتا ہے اور جلد تر نہیں پکڑتا ۔ پھر ایک اور جگہ اسی رحمانیت کی طرف اشارہ فرمایا ہے أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَافَاتٍ وَيَقْبِضْنَ ط مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا الرَّحْمَنُ الجزو نمبر الاعراف: ۱۵۷ الانبياء : ۴۳ الملک : ۲۰