اللہ تعالیٰ — Page 16
۱۶ اللہ تعالیٰ جل شانہ و عزاسمہ یہ اس لئے ہوا کہ تاکسی قوم کو شکایت کرنے کا موقعہ نہ ملے اور یہ نہ کہیں کہ خدا نے فلاں فلاں قوم پر احسان کیا مگر ہم پر نہ کیا۔ یا فلاں قوم کو اس کی طرف سے کتاب ملی تا وہ اس سے ہدایت پاویں مگر ہم کو نہ ملی۔ یا فلاں زمانہ میں وہ اپنی وحی اور الہام اور معجزات کے ساتھ ظاہر ہوا مگر ہمارے زمانہ میں مخفی رہا۔ پس اس نے عام فیض دکھلا کر ان تمام اعتراضات کو دفع کر دیا اور اپنے ایسے وسیع اخلاق دکھلائے کہ کسی قوم کو اپنے جسمانی اور روحانی فیضوں سے محروم نہیں رکھا۔ اور نہ کسی زمانہ کو بے نصیب ٹھہرایا۔ پیغام صلح - روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۴۲) اے خدا اے کارساز و عیب پوش و کردگار اے مرے پیارے مرے محسن مرے پروردگار کس طرح تیرا کروں اے ذوالمنن شکر و سپاس وہ زباں لاؤں کہاں سے جس سے ہو یہ کاروبار یہ سراسر فضل و احساں ہے کہ میں آیا پسند ورنہ درگہ میں تری کچھ کم نہ تھے خدمت گذار دوستی کا دم جو بھرتے تھے وہ سب دشمن ہوئے پر نہ چھوڑ ا ساتھ تو نے اے میرے حاجت برار اے مرے یاریگا نہ اے مری جاں کی پنہ بس ہے تو میرے لئے مجھ کو نہیں تجھ بن بکار میں تو مرکز خاک ہوتا گر نہ ہوتا تیرا لطف پھر خدا جانے کہاں یہ پھینک دی جاتی غبار اے فدا ہو تیری رہ میں میرا جسم و جان و دل میں نہیں پاتا کہ تجھ سا کوئی کرتا ہو پیار ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹے گود میں تیری رہا میں مثلِ طفلِ شیر خوار نسلِ انساں میں نہیں دیکھی وفا جو تجھ میں ہے تیرے بن دیکھا نہیں کوئی بھی یارِ غمگسار لوگ کہتے ہیں کہ نالائق نہیں ہوتا قبول میں تو نالائق بھی ہو کر پا گیا درگہ میں بار اس قدر مجھ پر ہوئیں تیری عنایات و کرم جن کا مشکل ہے کہ تا روز قیامت ہو شمار ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ۔ روحانی خزائن جلد ۱ ۲ صفحہ ۱۲۷) خدا تعالیٰ نے عاجز انسانوں کو اپنی کامل معرفت کا علم دینے کے لئے اپنی صفات کو قرآن شریف میں دو رنگ پر ظاہر کیا ہے۔ (۱) اول اس طور پر بیان کیا ہے جس سے اس کی