اللہ تعالیٰ — Page 13
وجودر ۱۳ اللہ تعالیٰ جل شانہ و عزاسمہ کے سہارے سے نہیں بلکہ اپنے ذاتی وجوب کے رُو سے ہو۔ اور جب عقل سلیم کے آگے یہ دونوں سوال پیش کئے جائیں کہ آیا خداوند قادر مطلق کے محامد تامہ کے لئے یہ بات اصلح اور انسب ہے کہ وہ آپ ہی اپنی قدرت کاملہ سے تمام موجودات کو منصہ ظہور میں لا کر ان سب کا رب اور خالق ہو اور تمام کا ئنات کا سلسلہ اسی کی ربوبیت تک ختم ہوتا ہو اور خالقیت کی صفت اور قدرت اُس کی ذات کامل میں موجود ہو اور پیدائش اور موت کے نقصان سے پاک ہو یا یہ باتیں اُس کی شان کے لائق ہیں کہ جس قدر مخلوقات اس کے قبضہ تصرف میں ہیں یہ چیزیں اس کی مخلوق نہیں ہیں اور نہ اس کے سہارے سے اپنا د رکھتی ہیں اور نہ اپنے وجہ اپنے وجود اور بقا میں اس اس کی محتاج ہیں اور نہ وہ اُن کا خالق اور رب ہے اور نہ خالقیت کی صفت اور قدرت اُس میں پائی جاتی ہے اور نہ پیدائش اور موت کے نقصان سے پاک ہے تو ہر گز عقل یہ فتویٰ نہیں دیتی کہ وہ جو دنیا کا مالک ہے وہ دنیا کا پیدا کنندہ نہیں اور ہزاروں پر حکمت صفتیں کہ جوڑوحوں اور جسموں میں پائی جاتی ہیں وہ خود بخود ہیں اور ان کا بنانے والا کوئی نہیں اور خدا جو ان سب چیزوں کا مالک کہلاتا ہے وہ فرضی طور پر مالک ہے ۔ اور نہ یہ فتویٰ دیتی ہے کہ اُس کو پیدا کرنے سے عاجز سمجھا جاوے یا نا طاقت اور ناقص ٹھہرایا جاوے یا پلیدی اور نجاست خواری کی نالائق اور فتیح عادت کو اس کی طرف منسوب کیا جائے یا موت اور درد اور دکھ اور بے علمی اور جہالت کو اُس پر روا رکھا جائے بلکہ صاف یہ شہادت دیتی ہے کہ خدائے تعالیٰ ان تمام رذیلتوں اور نقصانوں سے پاک ہونا چاہئے اور اُس میں کمالِ تام کمال تام چاہئے ۔ اور کمال تام قدرت تام سے مشروط ہے اور ج روط ہے اور جب خدائے تعالیٰ میں قدرت تام نہ رہی اور نہ وہ کی اور نہ وہ کسی دوسری چیز کو پیدا کر سکا اور نہ اپنی ذات کو ہر یک قسم کے نقصان اور عیب سے بچا سکا تو اُس میں کمال تام بھی نہ رہا۔ اور جب کمال تام نہ رہا تو محامد کا ملہ سے وہ بے نصیب رہا۔ یہ ہندؤں اور آریوں کا حال ہے اور جو کچھ عیسائی لوگ خدائے تعالیٰ کا جلال ظاہر