اللہ تعالیٰ — Page 135
الله اللہ تعالیٰ جل شانہ و عزاسمہ متاع مهر رخ تو نہان نخواهم داشت که خفیه داشتن عشق تو ز غداری است بر آن سرم که سر و جان فدائے تو بکنم که جان بیار سپردن حقیقت یاری است آئینہ کمالات اسلام ۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱) سخن نزدم مران از شہر یاری که هستم بر درے اُمید وارے خداوندی کہ جان بخش جهان است بدیع و خالق و پروردگاری " کریم مشکل کشائے رحیم و محسن فتادم بر درش زیر آنکه گویند برآید در جهان کاری ز کارے و قادر و و حاجت براری ه۔ کے چو آن یار وفادار آیدم یاد فراموشم شود هر خویش و یاری بغیر او چسان بندم دل خویش کہ بے رویش نمی آید قرارے ^ سینه ریشم مجوئید که بستیمش بدامان نگاری دلم در دل من دلبری را تخت گاہے سر من در رو یاری شاری چگویم فضل او بر من چگون ست که فضل اوست نا پیدا کنارے لے میں تیری محبت کی دولت کو ہر گز نہیں چھپاؤں گا۔ کہ تیرے عشق کا مخفی رکھنا بھی ایک غداری ہے۔ میں تیار ہوں کہ جان و دل تجھ پر قربان کردوں کیونکہ جان کو محبوب کے سپر د کر دینا ہی اصل دوستی ہے ۔ سے میرے سامنے کسی بادشاہ کا ذکر نہ کر کیونکہ میں تو ایک اور دروازہ پر امیدوار پڑا ہوں ۔ ے وہ خدا جو دنیا کو زندگی بخشنے والا ہے اور بدیع اور خالق اور پروردگار ہے۔ کریم و قادر ہے اور مشکل کشا ہے۔ رحیم ہے، حسن ہے اور حاجت روا ہے۔ 1 میں اس کے دروازہ پر آپڑا ہوں کیونکہ مثل مشہور ہے کہ دنیا میں ایک کام میں سے دوسرا کام نکل آتا ہے۔ کے جب وہ یار وفادار مجھے یاد آتا ہے تو ہر رشتہ دار اور دوست مجھے بھول جاتا ہے۔ میں اسے چھوڑ کر کسی اور سے کس طرح دل لگاؤں کہ بغیر اس کے مجھے چین نہیں آتا۔ دل کو مرے زخمی سینے میں نہ ڈھونڈو کہ ہم نے اسے ایک محبوب کے دامن سے باندھ دیا ہے۔ نا میرا دل دلبر کا تخت ہے اور میر اسر یار کی راہ میں قربان ہے۔ الے میں کیا بتاؤں کہ مجھ پر اس کا فضل کس طرح کا ہے کیونکہ اس کا فضل تو ایک نا پیدا کنار سمندر ہے۔ و !