اللہ تعالیٰ — Page 121
۱۲۱ اللہ تعالیٰ جل شانہ و عزاسمہ خدا تعالیٰ کے ایک عظیم الشان فعل کی توہین کرنا ہے۔ کیونکہ ایسی حالت میں جبکہ بالکل رعایت اسباب کی نہ کی جاوے ضروری ہوگا کہ تمام قوتوں کو جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کی ہیں بالکل بے کار چھوڑ دیا جاوے اور ان سے کام نہ لیا جاوے اور ان سے کام نہ لینا اور ان کو بے کار چھوڑ دینا خدا تعالیٰ کے فعل کو لغو اور عبث قرار دینا ہے۔ جو بہت بڑا گناہ ہے۔ پس ہمارا یہ منشا اور مذہب ہرگز نہیں کہ اسباب کی رعایت بالکل ہی نہ کی جاوے بلکہ رعایت اسباب اپنی حد تک ضروری ہے آخرت کے لئے بھی اسباب ہی ہیں ۔ خدا تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری اور بدیوں سے بچنا اور دوسری نیکیوں کو اختیار کرنا اس لئے ہے کہ اس عالم اور دوسرے عالم میں سکھ ملے تو گویا یہ نیکیاں اسباب کے قائم مقام ہیں۔ اسی طرح پر یہ بھی خدا تعالیٰ نے منع نہیں کیا کہ دنیوی ضرورتوں کے پورا کرنے کے لئے اسباب کو اختیار کیا جاوے۔ نوکری والا نوکری کرے۔ زمیندار اپنی زمینداری کے کاموں میں رہے۔ مزدور مزدوریاں کریں تا وہ اپنے عیال واطفال اور دوسرے متعلقین اور اپنے نفس کے حقوق کو ادا کر سکیں۔ پس ایک جائز حد تک یہ سب درست ہے اور اس کو منع نہیں کیا جاتا ۔ لیکن جب انسان حد سے تجاوز کر کے اسباب ہی پر پورا بھروسہ کرے اور سارا دارو مدار اسباب پر ہی جا ٹھہرے تو یہ وہ شرک ہے جو انسان کو اس کے اصل مقصد سے دور پھینک دیتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اگر فلاں سبب نہ ہوتا تو میں بھوکا مر جاتا۔ یا اگر یہ جائیداد یا فلاں کام نہ ہوتا تو میرا برا حال ہو جاتا۔ فلاں دوست نہ ہوتا تو تکلیف ہوتی ۔ یہ امور اس قسم کے ہیں کہ خدا تعالیٰ ان کو ہرگز پسند نہیں کرتا کہ جائیداد یا اور اور اسباب و احباب پر اس قدر بھروسہ کیا جاوے کہ خدا تعالیٰ سے بکلی دُور جا پڑے۔ یہ خطر ناک شرک ہے جو قرآن شریف کی تعلیم کے صریح خلاف ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ ۔ اور فرمایا وَ مَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (۳) الذاريات : ۲۳ الطلاق : ۴