الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 226
ضميمه حقيقة الوحى ۲۲۶ الاستفتاء خَوْفٌ الْمُهَيْمِنِ مَا أَرَى فِي قَلْبِهِمْ فَارَتْ عُيُونُ تَمَرُّدٍ وَآبَاءِ میں ان کے دلوں میں خدائے مھیمن کا خوف نہیں دیکھتا بلکہ (ان کے) سرکشی اور انکار کے چشموں نے جوش مارا ہے۔ قَدْ كُنتُ أمُلُ أَنَّهُمْ يَخْشَوْنَهُ فَالْيَوْمَ قَدْ مَالُوا إِلَى الْأَهْوَاءِ میں امید کرتا تھا کہ وہ اس سے ڈریں گے پر آج تو وہ حرص و ہوا کی طرف جھک گئے ہیں۔ نَضَّوا الثَّيَابَ ثِيَابَ تَقُوى كُلُّهُمْ مَا بَقِيَ إِلَّا لِبُسَةُ الإِغْوَاءِ ان سب نے تقوی کے جامے اتار پھینکے اور ان پر بہکانے کے لباس کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔ هَلْ مِنْ عَفِيفٍ زَاهِدٍ فِي حِزْبِهِمْ أَوْ صَالِحٍ يَخْشَى زَمَانَ جَزَاءِ کیا ان کے گروہ میں کوئی پرہیز گار اور زاہد باقی ہے؟ یا ایسا صالح جو یوم جزاء سے ڈرتا ہو؟ وَاللَّهِ مَا أَدْرِى تَقِيًّا خَائِفًا فِي فِرْقَةٍ قَامُوا لِهَدْمِ بِنَائِي خدا کی قسم ! میں نہیں پاتا کوئی ڈرنے والا پر ہیز گار اس گروہ میں جو میری عمارت کو ڈھانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ مَا إِنْ أَرَى غَيْرَ الْعَمَائِمِ وَاللُّحَى اَوْ أَنُفَا زَاغَتُ مِنَ الْخُيَلَاءِ میں پگڑیوں اور داڑھیوں یا ایسے ناکوں کے سوا جو تکبر سے ٹیڑھے ہو گئے ہیں اور کچھ نہیں دیکھتا۔ ۹۷﴾ لَا ضَيْرَ إِنْ رَدُّوا كَلَامِي نَخْوَةً فَسَيَنْجَعَنُ فِي خَرِينَ نِدَائِي کچھ مضائقہ نہیں اگر انہوں نے میرے کلام کو تکبر سے رڈ کر دیا ہے پس عنقریب دوسروں میں میری آواز ضرور اثر انداز ہوکر رہے گی۔ لَا تَنْظُرَنْ غَرُوا إِلَى اِفْتَاءِ هِمْ غُسٌ تَلَا غُسَّا بِنَفْعِ عَمَاءِ ان کے فتووں کو تعجب سے نہ دیکھ ۔ ایک کمینہ اندھے پن کے غبار کی وجہ سے (دوسرے) کمینے کی پیروی کر رہا ہے۔ قَدْ صَارَ شَيْطَانٌ رَّحِيمٌ حِبَّهُمْ يُمْسِي وَيُضْحِي بَيْنَهُمُ لِلِقَاءِ شیطان رجیم ان کا محبوب بن گیا ہے وہ ان کے درمیان ملاقات کے لئے صبح شام آتا ہے۔ أَعْمَى قُلُوبَ الْحَاسِدِينَ شُرُورُهُمْ اَعْرَى بَوَاطِنَهُمْ لِبَاسُ رِيَاءِ حاسدوں کے دلوں کو ان کی شرارتوں نے اندھا کر دیا ہے اور ان کے اندرونے کو ریا کے لباس نے ننگا کر دیا ہے۔ اذَوْا وَفِي سُبُلِ الْمُهَيْمِنِ لَا نَرَى شَيْئًا الدَّ لَنَا مِنَ الْإِبْدَاءِ انہوں نے دکھ دیا اور خدائے مھیمن کی راہ میں ہم کسی شے کو دکھ پانے سے زیادہ لذیذ نہیں سمجھتے۔