الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 222 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 222

ضميمه حقيقة الوحي ۲۲۲ الاستفتاء مَا قُلْتَ كَالًا دَبَاءِ قُل لِّي بَعْدَمَا ظَهَرَتْ عَلَيْكَ رَسَائِلِي كَقُيَاءِ مجھے بتا کہ تو نے ادیبوں کی طرح کیا کہا ہے اس کے بعد کہ تجھے میرے رسالے کئے کی طرح دکھائی دیئے۔ قَدْ قُلْتَ إِنِّي بَاسِلٌ مُتَوَكِّلٌ سَمَّيْتَنِي صَيْدًا مِّنَ الْخُيَلَاءِ تو نے دعوی کیا ہے کہ میں دلاور ہوں اور علم میں مہارت رکھنے والا ہوں اور تکبر سے تو نے میرا نام شکار رکھا تھا۔ الْيَوْمَ مِنِّى قَدْ هَرَبْتَ كَارْنَبٍ خَوْفًا مِّنَ الْإِخْزَاءِ وَالإِعْرَاءِ آج تو تو میرے مقابلے میں خرگوش کی طرح بھاگا ہے۔ رُسوا اور ننگا ہونے کے خوف سے۔ فَكِرُ أَمَا هَذَا التَّخَوُّفُ آيَةٌ رُعبًا مِّنَ الرَّحْمَنِ لِلادْرَاءِ سوچ کہ کیا تیرا یہ مرعوب ہو کر ڈرنا تجھے سمجھانے کے لئے خدائے رحمان کی طرف سے نشان نہیں ہے۔ كَيْفَ النِّضَالُ وَاَنْتَ تَهْرُبُ خَشْيَةً انْظُرُ إِلَى ذُلِّ مِنِ اسْتِعْلَاءِ تو مجھ سے کس طرح مقابلہ کر سکتا ہے حالانکہ تو مجھ سے ڈر کر بھاگ رہا ہے۔ دیکھ اس ذلت کی طرف جو تکبر کرنے کی وجہ سے تجھے پہنچی ہے۔ إِنَّ الْمُهَيْمِنَ لا يُحِبُّ تَكَبُّرًا مِنْ خَلْقِهِ الضُّعَفَاءِ دُودِ فَنَاءِ بے شک خدائے مھیمن تکبر کو پسند نہیں کرتا اپنی کمزور مخلوق کی طرف سے، جو فنا کا کیڑا ہے۔ عُفَرْتَ مِنْ سَهُم اَصَابَكَ فَاجِئًا اَصْبَحْتَ كَالْامُوَاتِ فِي الْجَهْرَاءِ تو خاک آلود کر دیا گیا ہے اس تیر سے جو اچانک تجھے آ لگا ہے تو بیابان میں مردوں کی طرح ہو گیا ہے۔ أَلا نَ أَيْنَ فَرَرْتَ يَا ابْنَ تَصَلُّفٍ قَدْ كُنْتَ تَحْسَبُنَا مِنَ الْجُهَلَاءِ اے لاف زن! اب تو کہاں بھاگ گیا ہے ؟ تو تو ہمیں جاہلوں میں سے خیال کیا کرتا تھا۔ يَامَنْ أَهَاجَ الْفِتَنَ قُمْ لِنِضَالِنَا كُنَّا نَعُدُّكَ نَوْجَةَ الْحَوَاءِ اے وہ شخص جس نے فتنے برپا کئے؟ ہمارے مقابلے کے لئے اٹھ ۔ ہم تو تجھے غبار والی زمین کا طوفان سمجھتے ہیں۔ نُطْقِي كَمَوْلِي الْاَسِرَّةِ جَنَّةٍ قَوْلِى كَقِنُرِ النَّخْلِ فِي الْخَلْقَاءِ میر انطق اس باغ کی طرح ہے جس کی وادیوں میں دوسری بار بارش ہوئی ہو۔ اور میرا قول کھجور کے خوشے کی طرح ہے جو زرخیز زمین میں ہو۔ مُرِّقْتَ لَكِنُ لا بِضَرْبِ هَرَاوَةٍ بَلُ بِالسُّيُوفِ الْجَارِيَاتِ كَمَاءِ تو پارہ پارہ کر دیا گیا ہے لیکن ڈنڈے کی ضرب سے نہیں بلکہ تلواروں سے جو آب رواں کی طرح ( تیز ) تھیں۔