الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 216 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 216

۸۸ ضميمه حقيقة الوحى ۲۱۶ الاستفتاء بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ عِلْمِي مِنَ الرَّحْمَنِ ذِي الْآلَاءِ بِاللَّهِ حُزْتُ الْفَضْلَ لَا بِدَهَاءِ میر اعلم خدائے رحمان کی طرف سے ہے جو نعمتوں والا ہے۔ میں نے خدا کے ذریعہ فضل الہی کو حاصل کیا ہے نہ کہ عقل کے ذریعہ۔ كَيْفَ الْوُصُولُ إِلَى مَدَارِجٍ شُكْرِهِ نُثْنِي عَلَيْهِ وَلَيْسَ حَوْلُ ثَنَاءِ ہم اس کے شکر کی منزلوں تک کیسے پہنچ سکتے ہیں کہ ہم اس کی ثنا کرتے ہیں اور ثنا کی طاقت نہیں۔ اللَّهُ مَوْلَانَا وَكَافِلُ اَمْرِنَا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا وَبَعْدَ فَنَاءِ خدا ہمارا مولیٰ ہے اور ہمارے کام کا متکفل ہے اس دنیا میں بھی اور فنا کے بعد بھی۔ لَوْلَا عِنَايَتُهُ بِزَمَنِ تَطَلُّبِي كَادَتْ تُعَفِّيُنِي سُيُولُ بُكَاءِ اگر میری جستجوئے پیہم کے دور میں اس کی عنایت نہ ہوتی تو قریب تھا کہ آہ وزاری کے سیلاب مجھے نابود کر دیتے ۔ بُشْرَى لَنَا إِنَّا وَجَدْنَا مُونِسًا رَبَّا رَّحِيمًا كَاشِفَ الْغَمَّاءِ ہمارے لئے خوشخبری ہے کہ ہم نے مونس و غم خوار پالیا ہے جو رب رحیم ہے اور غم و مصیبت کا دور کرنے والا ہے۔ أُعْطِيتُ مِنْ الْفِ مَعَارِفَ لُبَّهَا أُنْزِلْتُ مِنْ حِبِّ بِدَارِ ضِيَاءِ مجھے محبوب کی طرف سے معارف کا مغز عطا کیا گیا ہے اور میں اپنے محبوب کی طرف سے روشنی کی جگہ میں اتارا گیا ہوں۔ نَتْلُو ضِيَاءَ الْحَقِّ عِنْدَ وُضُوحِهِ لَسْنَا بِمُتَاعِ الدُّجى بِبَرَاءِ ہم حق کی روشنی کی اس کے ظاہر ہوتے ہی ، پیروی کرتے ہیں۔ چاند طلوع ہو جانے کے بعد ہم تاریکی کے خریدار نہیں ۔ نَفْسِي نَأْتُ عَنْ كُلِّ مَا هُوَ مُظْلِمٌ فَأَنَخْتُ عِنْدَ مُنَوِّرِي وَجَنَائِي میرا نفس ہر تاریک چیز سے دور ہے۔ پس میں نے اپنی مضبوط اونٹنی کو اپنے منور کرنے والے کے پاس بٹھا دیا۔ غَلَبَتْ عَلَى نَفْسِي مَحَبَّةٌ وَجْهِهِ حَتَّى رَمَيْتُ النَّفْسَ بِالْإِلْغَاءِ میرے نفس پر اس کی ذات کی محبت غالب ہوئی یہاں تک کہ میں نے نفس کو بیکار کر کے نکال پھینکا۔ لَمَّارَ أَيْتُ النَّفْسَ سَدَّتْ مُهْجَتِي الْقَيْتُهَا كَالْمَيِّتِ فِي الْبَيْدَاءِ اور جب میں نے دیکھا کہ نفس میری روح کی راہ میں روک ہے تو میں نے اسے اس طرح پھینک دیا جیسے کہ مردار بیابان میں ( پڑا ہو )۔ نوٹ:۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ قصیدہ اپنی کتاب انجام آتھم روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۶۶ تا ۲۸۲ میں درج فرمایا ہے اور پھر الاستفتاء میں بعض مصرعوں کی تبدیلی کے ساتھ دوبارہ درج فرمایا ہے ۔ (ناشر)