الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 211 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 211

ضميمه حقيقة الوحى * جاء في أيل واختار - ۲۱۱ * الاستفتاء میرے پاس آئیں آیا اور اُس نے مجھے چن لیا۔ اور وادار اصبعه و اشار ۔ ان وعد الله اپنی انگلی کو گردش دی اور یہ اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ اتی ۔ فطوبى لمن وجد و رأى۔ آگیا۔ پس مبارک وہ جو اُس کو پاوے اور دیکھے۔ الامراض تشاع والنفوس تضاع۔ طرح طرح کی بیماریاں پھیلائی جائیں گی اور کئی آفتوں سے جانوں کا نقصان ہوگا۔ اني مع الرسول اقوم وافطر میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔ میں افطار واصوم ☆ ☆ کروں گا اور روزہ بھی رکھوں گا اور ایک وقت ولن ابرح الارض الى الوقت مقرر تک میں اس زمین سے علیحدہ نہیں ہوں گا۔ المعلوم واجعل لك انوار القدوم۔ اور تیرے لئے اپنے آنے کے نور عطا کروں گا۔ و اقصدک و اروم ۔ اور تیری طرف قصد کروں گا۔ و اعطيك ما يدوم ۔ اور وہ چیز تجھے دوں گا جو تیرے ساتھ ہمیشہ رہے گی۔ المراد من الآيل جبرئيل عليه آيل سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں۔ اور میرے السلام، وکذالک فهمنی ربّى، ولما رب نے مجھے اس کی ایسے ہی تفہیم فرمائی۔ جب اول اور كان الأول والإياب من صفات ایاب ( بار بار لوٹ کر آنا ) جبریل علیہ السلام کی صفات جبرئيل عليه السلام فلذالک سُمّی میں سے ہے تو کلام الہی میں اسے آیل کے نام سے موسوم بالآيل في كلام الله تعالى۔ منه کیا گیا۔ منہ فيه إشارة إلى عذاب الطاعون إلى حمد اس میں طاعون کے عذاب کی طرف اشارہ ہے کہ وہ وقت، ثم تأخيره إلى وقت ، كأن الله اپنے ایک وقت تک ظاہر ہوگا پھر اس میں کچھ وقت کے لئے تاخیر ہو گی ۔ اس طرح گویا اللہ روزہ افطار بھی کرتا ہے يُفطر ويصوم۔ منه اور روزہ رکھتا بھی ہے ۔ منہ