الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 186
ضميمه حقيقة الوحى ۱۸۶ الاستفتاء ولا تصعر لخلق الله ولا تسئم من اور چاہئے کہ تو مخلوق الہی کے ملنے کے وقت الناس - ووسع مکانک - چیں بر جبیں نہ ہو اور چاہیئے کہ تو لوگوں کی کثرت ملاقات سے تھک نہ جائے ۔ اور تجھے لازم ہے کہ اپنے مکان کو وسیع کرے تا لوگ جو کثرت سے آئیں گے ان کو اُترنے کے لئے کافی گنجائش ہو۔ وبشر الذين امنوا ان لهم قدم اور ایمان والوں کو خوشخبری دے کہ خدا کے حضور صدق عند ربهم - میں اُن کا قدم صدق پر ہے۔ وَاتْلُ عليهم مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِن اور جو کچھ تیرے رب کی طرف سے تیرے پر وحی رَبِّكَ - نازل کی گئی ہے وہ ان لوگوں کو سُنا جو تیری جماعت میں داخل ہوں گے۔ اصحاب الصفة - وما ادراک ما صفہ کے رہنے والے اور تو کیا جانتا ہے کہ کیا ہیں اصحاب الصفة صفہ کے رہنے والے۔ ترى اعينهم تفيض من الدَّمْعِ ۔ تو دیکھے گا کہ اُن کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوں يُصلّون علیک - ربنا اننا سمعنا | گے۔ وہ تیرے پر درود بھیجیں گے اور کہیں گے کہ مناديا ينادى للايمان - اے ہمارے خدا ہم نے ایک منادی کرنے والے کی آواز سنی ہے جو ایمان کی طرف بلاتا ہے۔ وداعيًا الى الله وسراجا منيرا۔ اور خدا کی طرف بلاتا ہے اور ایک چمکتا ہوا چراغ ہے۔ يا أَحْمَدُ فاضت الرحمة على اے احمد تیرے لبوں پر رحمت جاری کی گئی ۔ شفتیک انک باعيننا ۔ تو میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ سميتك المتوكل - میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے۔