الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 183 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 183

ضميمه حقيقة الوحي ۱۸۳ الاستفتاء هذا من رحمة ربك يتم نعمته یہ مرتبہ تیرے رب کی رحمت سے ہے وہ اپنی نعمت علیک ۔ تیرے پر پوری کرے گا۔ فبشر وما انت بنعمة ربك پس تو خوشخبری دے اور خدا کے فضل سے تو دیوانہ بمجنون - نہیں ہے۔ لك درجة في السماء وفی تیرا آسمان پر ایک درجہ اور مرتبہ ہے اور نیز اُن الذين هُم يُبْصِرُون لوگوں کی نگہ میں جو دیکھتے ہیں ۔ ولک نرى آیات و نهدم ما اور تیرے لئے ہم نشان دکھائیں گے اور جو يعمرون۔ عمارتیں بناتے ہیں ہم ڈھادیں گے۔ الحمد لله الذی جعلک اُس خدا کی تعریف ہے جس نے تجھے مسیح ابن مریم ۸۰) المسيح ابن مريم - بنایا۔ لا يُسئل عما يَفْعَلُ وهم وہ اُن کاموں سے پوچھا نہیں جاتا جو کرتا ہے يُسئلون - اور لوگ اپنے کاموں سے پوچھے جاتے ہیں۔ وَقَالُوا أَتَجْعَلُ فيها من يُفْسِدُ فِيها ۔ اور انہوں نے کہا کہ کیا تو ایسے شخص کو خلیفہ بناتا ہے قال إِنِّي اعلم ما لا تعلمون ۔ جو زمین پر فساد کرتا ہے۔ اُس نے کہا کہ اس کی نسبت جو کچھ میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ کچھ تم انی مهین من اراد اهانتک۔ میں اُس شخص کی اہانت کروں گا جو تیری اہانت کا ارادہ کرے گا۔ اني لا يخاف لدى المرسلون - میرے قرب میں میرے رسول کسی دشمن سے نہیں ڈرا کرتے۔ كتب الله لَاغْلِبَنَّ اَنَا ورُسُلی ۔ خدا نے لکھ چھوڑا ہے کہ میں اور میرے رسول وهم من بعد غلبهم سيغلبون ـ غالب رہیں گے۔ اور وہ مغلوب ہونے کے بعد جلد غالب ہو جائیں گے۔