الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 181 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 181

ضميمه حقيقة الوحى ۱۸۱ الاستفتاء بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ یا احمد بارک الله فیک - اے احمد خدا نے تجھ میں برکت رکھ دی ہے۔ نے چلایا وہ تو نے نہیں چلایا بلکہ مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ الله جو کچھ تو نے رمی - خدا نے چلایا۔ الرَّحْمَن - عَلَّمَ القرآن - لِتُنْذِرَ خدا نے تجھے قرآن سکھلایا یعنی اس کے صحیح معنی تجھ قَوْمًا مَا انْذِرَ آبَاءُ هُمْ وَلِتَسْتَبِيْنَ پر ظاہر کئے ۔ تاکہ تو اُن لوگوں کو ڈراوے جن کے سَبِيلُ المجرمين - باپ دادے ڈرائے نہیں گئے اور تاکہ مجرموں کی راہ کھل جائے یعنی معلوم ہو جائے کہ کون تجھ سے برگشتہ ہوتا ہے۔ قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ وانا اوّل کہہ میں خدا کی طرف سے مامور ہوں اور میں المؤمنين - سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں ۔ قل جاء الحق وزهق الباطل اِن کہہ حق آیا اور باطل بھاگ گیا۔ اور باطل بھاگنے البَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا ۔ والا ہی تھا۔ كُلُّ بركة من محمد صلى الله ہر ایک برکت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عليه وسلم - فتبارك من علم ہے۔ پس بڑا مبارک و ابڑا مبارک وہ ہے جس نے تعلیم دی اور وتعلّم جس نے تعلیم پائی۔ وقالوا ان هذا إلا اختلاق - قل اور کہیں گے کہ یہ وحی نہیں ہے یہ کلمات تو اپنی الله ثم ذرهم في خوضهم طرف سے بنائے ہیں۔ اُن کو کہہ وہ خدا ہے جس نے یہ کلمات نازل کئے پھر اُن کو لہو و لعب کے يلعبون خیالات میں چھوڑ دے۔ قل ان افتريته فعلی اجرام اُن کو کہہ اگر یہ کلمات میرا افترا ہے اور خدا کا کلام شدید نہیں تو پھر میں سخت سزا کے لائق ہوں۔