الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 177 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 177

ضميمه حقيقة الوحي ۱۷۷ الاستفتاء ثم اعلموا أن مسكني قرية سميت پھر تم جان لو کہ میرا مسکن اسلام پور نامی ایک بستی ببلدة الإسلام، ثم اشتهر باسم ہے جو آج کل قادیان کے نام سے مشہور ہے۔ یہ قاديان في هذه الأيام۔ وهي واقعة بستى پنجاب میں دریائے راوی اور دریائے بیاس في الفنجاب بين النهرين "الراوى" کے درمیان واقع ہے۔ جو پنجاب کے صدر مقام و"البياس"، إلى جانب المشرق لاہور کے شمال مشرق کی جانب واقع ہے۔ اور مائلا إلى الشمال من "لاهور" الذي میں نے اپنے آباء و اجداد کی سوانح حیات کی هو صدر الحكومة ومركز البلاد الفنجابية۔ وإني قرأت في كتب کتابوں میں پڑھا اور اپنے والد سے سنا ہے کہ سوانح آبائی وسمعت من أبى أن میرے آباء واجداد مغلوں کی نسل سے تھے۔ لیکن آبائي كانوا من الجرثومة المُغلية۔ اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی ہے کہ وہ ولكن الله أوحى إلى أنهم كانوا من فارسی النسل تھے۔ اقوام ترکی میں سے نہیں بنی فارس لا من الأقوام التركية۔ تھے۔ اور اس کے ساتھ ہی میرے رب نے مجھے یہ ومع ذالك أخبرني ربي بأنّ بعض بھی بتایا ہے کہ میری بعض نانیاں بنی فاطمہ اور اہل أمهاتـي كُن من بنى الفاطمة، ومن بیت نبوی میں سے تھیں۔ اور اللہ نے کمال حکمت و أهل بيت النبوة، والله جمع فيهم نسل إسحاق و إسماعيل من مصلحت سے (میرے اجداد میں ) حضرت اسحاق كمال الحكمة والمصلحة۔ اور حضرت اسماعیل کی نسل کو جمع کر دیا۔ وسمعت من أبي وقرأت في بعض اور میں نے اپنے والد صاحب سے سنا ہے اور سوانحهم أنهم كانوا في بدء أمرهم اپنے ان بزرگوں کے بعض سوانح میں یہ پڑھا ہے يسكنون في بلدة سمر قند، قبل کہ وہ ہندوستان کی طرف نقل مکانی سے پہلے ﴿۷۸﴾ أن يرحلوا إلى الهند، و كانوا من سمرقند میں بود و باش رکھتے تھے۔اور وہ اس ملک أمراء تلك الأرض وولاتها، کے امراء اور والیان حکومت میں سے تھے اور ملت ومن أنصار الملة وحماتھا کے انصار اور اس کے حامیوں میں سے تھے۔