الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 170
ضميمه حقيقة الوحي ۱۷۰ الاستفتاء ليرحله الفالج من الحياة الخبيث تاکہ یہ فالج اسے خبیث زندگی سے عدم کی طرف إلى العدم۔ وكان يُنقل من مكان إلى لے جائے ۔ اور وہ لوگوں کی گردنوں پر بٹھا کر ایک مكان فوق ركاب الناس، وكان إذا جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا اور جب اسے أراد التبرز يحتاج إلى الحقنة من بول و براز کی حاجت ہوتی تو وہ لوگوں کے ہاتھوں أيدى الأناس ۔ ثم لحق به الجنون، حقنے کا محتاج ہوتا ۔ پھر اسے جنون لاحق ہو گیا۔ جس فغلب عليه الهذيان في الكلمات کے نتیجہ میں اس کی گفتگو ہذیان اور حرکات و سکنات والاضطراب في الحركات میں بے چینی غالب آگئی اور یہ اس کی انتہائی والسكنات، وكان ذالك آخر رسوائی تھی۔ پھر طرح طرح کی حسرتوں کے ساتھ المخزيــات ۔ ثم أدركه الموت بأنواع الحسرات، وكان موته في اسے موت نے آن لیا اور اس کی موت بتاریخ ۱۹ مارچ ۱۹۰۷ء کو ہوئی۔ اور اس کی خوبیوں کا ذکر تاسع من مارج سنة ٩٠٧ ا ء، وما كانت له نوادب، ولا من يبكى عليه کر کے نوحہ کرنے والیاں نہ تھیں اور نہ اس پر کوئی بذكر الحسنات ۔ رونے والا تھا۔ وأوحى إلى ربّي قبل أن أسمع اور اس کی موت کی خبر سننے سے قبل ، میرے رب خبر موته وقال: إنّى نَعَيتُ إِنّ نے میری طرف وحی کی اور فرمایا: ” إِنِّی نَعَيْتُ ان الله مع الصادقين۔ ففهمت أنه الله مع الصادقین “ یعنی ” میں نے ایک کاذب کی أخبرني بموت عدوى وعدو موت کی خبر دی۔ اللہ صادقوں کے ساتھ ہے۔ تب میں سمجھ گیا کہ اللہ نے مجھ سے مباہلہ کرنے والوں میں ديني من المباهلين۔ فكنتُ بعد سے میرے دشمن اور میرے دین (اسلام) کے دشمن کی هذا الوحي الصريح من موت کی خبر دی ہے۔ اس واضح وحی کے بعد میں منتظر المنتظرين، وقد طبع قبل وقوعه رہا۔ اور اس پیشگوئی کے وقوع سے پہلے اسے اخبار بدر في جريدة بدر والحكم ليزيد اور الحکم میں طبع کر دیا گیا تھا تا کہ یہ اپنے ظہور کے عند ظهوره إيمان المؤمنين وقت مومنوں کے ایمان میں اضافہ کا موجب ہو۔