الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 147
ضميمه حقيقة الوحي ۱۴۷ الاستفتاء ووالله لا أدرى لم أعرضوا اور اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ ان کھلے کھلے نشانوں عنى مع هذه الآيات البينات، وقد کے ہوتے ہوئے انہوں نے مجھ سے کیوں منہ موڑ أتم الله حجته عليهم وعلى كل ليا ۔ جبکہ اللہ نے ان پر اور اندھیروں میں پڑے ہوئے من كان في الظلمات۔ ولما راعنى شخص ہر پر اپنی حجت تمام کر دی تھی ۔ اور جب ان ان کی منهم ما يروع الوحيد، أدركنى طرف سے مجھے وہ خوف لاحق ہوا جوا کیلے شخص کو ڈراتا عون ربي وكل يوم زيد۔ وما ہے تو میرے رب کی مدد مجھے آپہنچی اور وہ روز بروز زلت أنصر وأؤيد، حتى تمت بڑھتی چلی گئی ۔ اور یہ نصرت و تائید اتمام حجت ہونے الحجة، وتواترت النصرة تک مجھے مسلسل دی جاتی رہی۔ اور تواتر سے یہ نصرت وبلغت الآيات إلى حد لا أستطيع أن أحصيها، ولكني رأيت أن أكتب آية منها في آخر هذه الرسالة لعل الله ينفع بها أحدًا من الطبايع السعيدة، ويعلم الناس جاری رہی ۔ اور یہ نشانات اس حد تک جا پہنچے کہ جن کے شمار کی مجھ میں طاقت نہیں تھی لیکن میں نے مناسب سمجھا کہ ان نشانوں میں سے ایک نشان اس رسالے کے آخر میں لکھ دوں تا کہ شاید اللہ اس رسالے کے ذریعہ کسی سعید فطرت کو نفع پہنچادے اور أن نصرة الله قد أحاطت مشارق الأرض ومغاربها، وشاعت لوگ جان جائیں کہ اللہ کی نصرت زمین کے مشارق تغلغلها في أخيار العباد اور مغارب کو اپنے احاطہ میں لئے ہوئے ہے۔ اور اس وعقاربها، حتى بلغت أشعة كا غلغه (شہرت ) نیک بندوں اور بچھو فطرت لوگوں هذه الآيات إلى بلاد أمريكة التي میں اتنا عام ہے کہ ان نشانوں کی شعاعیں ممالک هي أبعد البلاد۔ امریکہ تک جو تمام ملکوں سے دور ہے پہنچیں۔ وكل ما أوحى الله إلى من الآيات اور روشن نشانوں اور عظیم براہین پریش پر مشتمل جو وحی بھی المنيرة، والبراهين الكبيرة، إنها ليست اللہ نے مجھے کی وہ میرے لئے نہیں بلکہ اسلام کی تصدیق لى بل لتصديق الإسلام، وما أنا إلا أحد کے لئے ہے۔ اور میں تو صرف خدام میں سے ایک من الخدام۔ وأعجبنى حال المنكرين خادم ہوں۔ منکروں کی حالت میرے لئے تعجب خیز ہے۔